محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ خیبر پختونخوا صوبے میں پینے کے پانی کے ضیاع کو روکنے اور زیر زمین پانی کی گرتی سطح کو قابو کرنے کے لیے ایک جامع اور مربوط حکمت عملی کے تحت اقدامات کر رہا ہے جس میں انٹیگریٹڈ واٹر ریسورس مینجمنٹ سسٹم کا اجرا سب سے اہم ہے جس کے تحت صوبے میں واٹر ریگولیرٹی اتھارٹی قائم کی جائے گی اور یہ اتھارٹی صوبے میں پینے کے صاف پانی کے استعمال کو ریگولیٹ کرے گی۔محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ نے صوبے میں پانچ سو سے زائد ٹیوب ویلوں کو شمسی توانائی پر منتقل کردیا ہے جس سے نہ صرف لوگوں کو پینے کے پانی کی ہمہ وقت دستیابی ممکن ہو گئی ہے بلکہ بجلی کے بلوں کی مد میں صوبائی حکومت کو 505 ملین روپے سالانہ کی بچت بھی ہو رہی ہے۔یہ بات سیکرٹری پبلک ہیلتھ انجینئرنگ بہرہ مند خان نے بدھ کے روز اپنے محکمہ کی سالانہ کارکردگی کے بارے میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔وزیراعلی خیبرپختونخوا کے مشیر برائے ضم شدہ اضلاع اجمل وزیر بھی اس موقع پر موجود تھے۔سیکرٹری پبلک ہیلتھ انجینئرنگ نے بتایا کہ صوبے کے دیہاتی اور شہری علاقوں میں اس وقت محکمہ آبنوشی کے تحت پینے کے صاف پانی کی 5943 چھوٹی بڑی سکیمیں کام کر رہی ہیں جن سے 17 ملین سے زائد کی آبادی مستفید ہو رہی ہے۔محکمہ آبنوشی نے حال ہی میں صوبے کے مختلف اضلاع میں آبنوشی کے میگا منصوبوں کو مکمل کر لیا ہے جن میں ایبٹ آباد گریویٹی فلور سکیم،واٹر سپلائی سکیم گولین گول چترال،واٹر سپلائی سکیم دروش چترال اور واٹر سپلائی سکیم بٹخیلہ شامل ہیں جن پر بالترتیب 4280 ملین،320 ملین،160 ملین اور 785 ملین روپے لاگت آئی ہے۔اس کے علاوہ واٹر سپلائی سکیم زیبی ڈیم کرک اور سیوریج اینڈ ڈرینج سکیم ڈی آئی خان جیسے بڑے منصوبوں کی بھی تکمیل ہو چکی ہے۔اسی طرح محکمہ کے زیر تکمیل منصوبوں میں واٹر سپلائی سکیم شکردرہ کوہاٹ واٹر سپلائی سکیم اتلا ڈیم ضلع صوابی اور گریویٹی بیسٹ واٹر سپلائی سکیم حویلیاں شامل ہیں جن پر بالترتیب 1550 ملین،1577 ملین اور 1250 ملین روپے کی لاگت آئے گی۔سیکرٹری پبلک ہیلتھ نے مزید بتایا کہ ہری پور اور بونیر کے لیے تین ڈیموں سے گریوٹی فلور سکیم کے ذریعے پانی کی فراہمی کے منصوبوں کی فزیبلٹی رپورٹ تیار کی جاچکی ہے۔عوام کو پینے کے پانی کی فراہمی کو محکمہ کی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے پینے کے پانی کی کوالٹی کو یقینی بنانے کے لیے صوبے کے آٹھ مختلف مقامات پر ٹیسٹنگ لیبارٹری قائم کی ہیں جبکہ 8 موبائل لیبارٹریز کی فراہمی پر کام جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ عوام کو پینے کے صاف پانی کے ہمہ وقت فراہمی کو یقینی بنانے اور آبنوشی کے ٹیوب ویلوں کی خرابی کو بروقت دور کرنے کے لیے ایک کوئیک رسپانس یونٹ قائم کیا گیا ہے جو24 گھنٹوں کے اندر اندر ٹیوب ویل کی خرابی کو دور کرکے پانی کی سپلائی کو بحال کرنے کے لیے فوری اقدامات کرے گا۔اس کے علاوہ محکمہ آب نوشی نے مختلف اصلاحاتی پروگرام شروع کیے ہیں جن میں مختلف قسم کے قوانین کی تیاری اور پالیسی سازی بھی شامل ہے۔