خیبر پختونخوا کے وزیر قانون و پارلیمانی امور اورانسانی حقوق سلطان محمد خان نے ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ رواں مالیاتی سال کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں ضلع چارسدہ کے لئے منظور شدہ سکیموں اور پروجیکٹس پر عملی کام شروع کیا جائے اور اس حوالے سے بلاوجہ تاخیر قبول نہیں ہوگا ۔یہ ہدایات انہوں نے ضلع چارسدہ کیلئے منظورشدہ ترقیاتی سکیموں کے حوالے سے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیں۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر عدیل شاہ اور دیگر محکموں کے ضلع افسران نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں افسران نے وزیر قانون کو مختلف پراجیکٹس کے حوالے سے کارکردگی رپورٹ بارے تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر سلطان محمد خان نے کہا کہ چارسدہ میڈیکل کالج کے قیام سے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال چارسدہ کو 500 بیڈز سمیت ٹیچنگ ہسپتال کا درجہ دیا جائے گا وزیر موصوف نے متعلقہ افسران پر زور دیتے ہوئے ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ میڈیکل کالج پر جلد کام شروع کیا جائے گا اور اس حوالے سے انہیں بر وقت پراگرس رپورٹ سے بھی اگاہ کیا جائے۔محکمہ تعلیم سمیت سی اینڈ ڈبلیو اور آبپاشی کے عہدیداروں نے چارسدہ میں مختلف پراجیکٹس میں پیشرفت کے حوالے سے وزیر موصوف کو آگاہ کیا۔وزیر قانون نے محکمہ آبپاشی کے عہدیداروں کو بھی تاکید کی کہ ڈھیری زرداد سے لے کر سرڈھیری تک دریا ئے کابل پر حفاظتی دیوار پر بھی کام شروع کیا جائے تا کہ کسی بھی سیلابی نقصان سے بروقت نمٹا جا سکے۔ وزیر قانون نے اجلاس میں افسران پرزور دیا کہ جاری ترقیاتی منصبوں کو بھی جلد از جلد مکمل کیا جائے۔اجلاس کے آخر میں وزیر قانون نے تمام محکموں کے ضلعی افسران کو بتایا کہ صوبائی محکمہ فنانس سے فنڈز ریلیزنگ کو جلد یقینی بنایا جائے گا لیکن پراجیکٹس میں تاخیر کسی صورت قبول نہیں ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوام کو جتنا جلدی ہو سکے ریلیف اور سروس ڈیلیوری کو یقینی بنانا ہے۔