نگران وزیراعلی خیبرپختونخوا کے مشیر برائے محکمہ صحت ڈاکٹر عابد جمیل کی سربراہی میں ڈینگی کے تدارک کے لئے اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں صوبے کے ہاٹ سپاٹس ضلع ہری پور، پشاور، نوشہرہ، مردان اور خیبر میں حکومتی اقدامات اور دیگر متعلقہ اُمور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر سیکرٹری ہیلتھ خیبرپختونخوا عطاء الرحمٰن، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز خیبرپختونخوا ڈاکٹر شوکت علی، ڈپٹی کمشنرز پشاور اور خیبر، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز, معروف وبائی امراض کے ماہر ڈاکٹر اکرام اللہ خان اور ڈاکٹر قاسم آفریدی،ڈینگی کنٹرول پروگرام اور میونسپل کارپوریشن کے نمائندے موجود تھے۔اجلاس میں مشیر صحت نے ڈینگی کی روک تھام کے لئے ایک مؤثر مہم چلانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اس مقصد کے لئے ڈسٹرکٹ سطح پر پیشگی اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی، انھوں نے اجلاس میں ہدایات جاری کیں کہ فیلڈ سٹاف کی استعداد کار بڑھانے اور لیڈی ہیلتھ ورکرز کے سافٹ سکلز کو مزید بہتر بنایا جائے تاکہ معاشرے کو لاروا تلفی پر قائل کیا جائے۔ پہلے ہر دوسرے سال ڈینگی کا ٹرینڈ ہوا کرتا تھا، موسمیاتی تغیر کی وجہ سے اب ہرسال ڈینگی ہواکرتا ہے۔ اجلاس کو ضلع مردان بارے خصوصی بریفنگ میں بتایا گیا کہ گھروں کے اندر کی سرویلنس شروع ہوچکی ہے۔ ڈینگی مثبت کیسز کا آغاز دو تین مہینے بعد ہوگا۔ اب تک رپورٹ ہونے والے 9 کیسز میں سے 8 کا تعلق مردان سے ہے۔ مردان کے دو مین ڈینگی سپاٹس میں بابوزئی اور تخت بھائی تحصیل کے علاقے شیرگڑھ شامل ہیں۔ بابوزئی میں گھروں کے اندر سٹور پانی کا مسئلہ ہے جسے ضائع کرنے پر لوگ آمادہ نہیں ہوتے۔ نوشہرہ میں ڈینگی کنٹرول بارے بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ نوشہرہ کا 67 فیصد علاقہ لیڈی ہیلتھ ورکرز کور کرتے ہیں جبکہ باقی کیلئے ہمیں اقدامات اُٹھانے ہونگے۔ ڈ ینگی کنٹرول پروگرام کے انچارج اور وبائی امراض کے ماہر ڈاکٹر قاسم نے بتایا کہ ملٹی سیکٹورل اپروچ کے ذریعے ڈینگی ایکشن پلان پر عملدرآمد یقینی بنانے پر عمل پیرا ہے۔ ڈینگی کے امسال پچھلے سال کی نسبت زیادہ کیسز متوقع ہیں جس کے لئے پیشگی اقدامات ُاٹھانے ہونگے۔ پشاور پر ہاٹ سپاٹ کے طور پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ سیکرٹری ہیلتھ نے محکمہ صحت کے افسران کو پشاور کیلئے پلان ترتیب دینے اور ڈینگی اوور سائیٹ کمیٹی فعال کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے بتایا کہ سرویلنس اور مکینیکل سویپ واحد حل ہے۔ انھوں نے کہا کہ طلبہ کے زریعے عوام میں آگاہی مہم چلانے اور لاروا تلف کرنے کیلئے شکایت نمبر متعارف کروانے پر بھی غور کررہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ضلع خیبر میں پچھلے سال ڈینگی کیسز کی تعداد زیادہ تھی، جمرود میں سب سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے۔ ضم شدہ اضلاع میں گھروں کے اندر سرویلنس کرنا مشکل ہوتا ہے۔ جمرود ایریا میں ٹائر شاپس، گودام و دیگر عمارات زیادہ ہیں۔ ٹائر گوداموں کیلئے لائحہ عمل ترتیب دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بصورت دیگر گودام کو سیل کردیا جائے۔ ضلع خیبر میں اب تک 25 سو سے زیادہ گھروں کی سرویلنس مکمل ہوچکی ہے۔ پانی وافر مقدار میں ہونے سے لوگ پانی سٹور کرنے کا رُجحان زیادہ ہے۔