وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی کامران بنگش نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت نے ترجیحی بنیادوں پر ضم شدہ اضلاع میں ترقیاتی کاموں کی جانب توجہ دی ہوئی ہے تا کہ وہاں پر پائے جانے والی سالہا سال کی احساس محرومی کو ختم کیا جاسکے اور ان اضلاع کے رہنے والے بھی خیبرپختونخوا کے دیگر علاقوں کی طرح ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکیں۔ ان خیالات کا اظہار معاون خصوصی نے جمعرات کو باڑہ ضلع خیبر میں واقع شہری سہولت مرکز کے دورہ پر کیا۔ اس موقع پر پراجیکٹ منیجر خواجہ علاؤالدین کی جانب سے معاون خصوصی کامران بنگش اور سیکرٹری ریلیف خیبرپختونخوا عابد مجید کو ضم شدہ اضلاع میں شہری سہولت مراکز کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں کامران بنگش کو بتایا گیا کہ صوبائی حکومت کی ہدایات کی روشنی میں ضم شدہ اضلاع میں 15 شہری سہولت مراکز فعال کر دئیے گئے ہیں جبکہ فروری 2020 تک مزید 13 مراکز کام کرنا شروع کردیں گے۔ اس وقت ضلع خیبر اور شمالی وزیرستان میں چار چار، کرم اور اورکزئی میں دودو اور اس کے ساتھ ساتھ جنوبی وزیرستان میں تین شہری سہولت مراکز فعال کر دئیے گئے ہیں۔ بریفنگ میں واضح کیا گیا کہ باجوڑ اور مہمند میں فروری 2020 تک شہری سہولت مراکز کام شروع کردیں گے کیونکہ اس سے پہلے وہاں پر کوئی مرکز نہیں تھا۔ کامران بنگش نے موقع پر ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ جہاں کہیں پر کوئی بھی چیلنج یا مشکل درپیش ہو اس کو فوری طور پر دور کیا جائے۔ محکمہ سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی ضم شدہ اضلاع میں شہری سہولت مراکز کے بارے سنجیدہ ہے اور اس عمل کو جلد از جلد مکمل کیا جائے گا۔