وزیر صحت ڈاکٹر ہشام انعام اللہ خان نے یو ایس ایڈ کے وفد سے ملاقات کی اور کہا کہ صوبے کی عوام کو مفت ادویات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے تمام تر اقدامات اٹھائے جائیں اور استعمال کی جانے والی ادویات کا باقاعدہ سے کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ بنایا جائے۔ اب اس امر کی سخت ضرورت ہے کہ صوبے کے تمام چھوٹے بڑے ہسپتالوں کے تمام ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ بنایا جائے تاکہ ادویات کی طلب، رسد اور استعمال کا ریکارڈ محکمہ صحت کے مرکزی دفتر میں موجود ہو۔ اس موقع پر یو ایس ایڈ کے وفد نے اس بات کی یقین دہانی کروائی کے وہ محکمہ صحت خیبر پختونخوا میں اصلاحات کے لیے تعاون کرے گا۔ اجلاس کی صدارت وزیر صحت خیبر پختونخوا ڈاکٹر ہشام انعام اللہ خان نے کی جبکہ دیگر شرکاء میں یو ایس ایڈ کے اعلیٰ افسران، سیکرٹری ہیلتھ خیبر پختونخوا، ڈی جی ہیلتھ خیبر پختونخوا، چیف ایچ ایس آر یو، ڈائریکٹر ضم اضلاع، ایڈوائزر ٹو منسٹر ہیلتھ کے علاوہ محکمہ صحت کے دیگر اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔اس موقع پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ صوبے کے ہسپتالوں کے ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ کیا جائے گا جس میں خاص طور پر ادویات کی خریداری، استعمال، ڈاکٹرز اور عملے کی تعیناتی کے علاوہ دیگر ریکارڈ شامل ہوگا۔ اس عمل سے تمام ریکارڈ مرکزی دفتر محکمہ صحت خیبر پختونخوا میں موجود ہوگا جہاں سے 24 گھنٹے اس پر نظر رکھی جاسکے گی۔ اس موقع پر وزیر صحت خیبر پختونخوا نے کہا کہ منظور شدہ مفت ادویات عوام کو بروقت فراہم کی جائیں اس عمل میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام ادویات کا باقاعدہ ریکارڈ مرتب کیا جائے میں بہت جلد مختلف ہسپتالوں کا دورہ کروں گا اور ریکارڈ طلب کروں گا کسی قسم کی کوتاہی کی صورت میں سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔