خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلی تعلیم کامران خان بنگش نے خواتین کے عالمی دن کے موقع پر کیا ہے کہ اسلام اور آئین پاکستان خواتین کے حقوق کے ضامن ہیں۔ خواتین ہر شعبے میں اپنا نام کر رہی ہیں خواہ وہ تعلیم ہو، کھیل ہو یا پھر دنیا میں سائنسی ایجادات ہوں خواتین نے ہر شعبے میں اپنا لوہا منوایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان بالخصوص خیبرپختونخوا کی خواتین کے حقوق کے لئے ہم نے ہمیشہ کام کیا اور آواز اٹھائی ہے۔ خواتین ہمارے معاشرے کا ایک اہم حصہ ہیں جس کے بغیر ہم کچھ نہیں۔ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر برائے اعلی تعلیم کامران خان بنگش نے وومن پارلیمنٹری کاکس خیبرپختونخوا اسمبلی، یو این وومن اور یو این ڈی پی کے مشترکہ تعاون سے خواتین کے عالمی دن کے موقع پر منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ایم پی اے ڈاکٹر سمیرا شمس، ایم پی اے مدیحہ نثار، ایم پی اے ریحانہ اسماعیل، ایم پی اے حمیرا خاتون، ایم پی اے آسیہ خٹک، ایم پی اے بصیرت خان، وائس چانسلر جامعہ پشاور اور پروفیسر ڈاکٹر انوش بھی موجود تھیں۔ایم پی اے و چیئرپرسن وومن پارلیمنٹری کاکس خیبرپختونخوا اسمبلی ڈاکٹر سمیرا شمس کا کہنا تھا کہ آج دنیا بھر میں خواتین کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ خواتین کی قیادت کو، ان کے عزم اور حوصلے کو سلام پیش کرتی ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ قدرت نے عورت کو بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا ہے، اگر وہ اپنی ان صلاحیتوں کا درست استعمال کریں تو بڑے سے بڑا پہاڑ سر کرسکتی ہے۔ عورت کئی روپ میں ہمارے سامنے ہے اور ہر روپ میں اس نے اپنا کردار بخوبی نبھایا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کی ماحولیاتی پالیسی میں صنفی ماحول کا ایک پورہ باب ڈالا گیا ہے جس سے یہ پتہ لگتا ہے کہ حکومت ماحولیاتی مسائل کیلئے کتنی سنجیدہ ہے۔ اس موقع پر چئیرپرسن قائمہ کمیٹی برائے اعلی تعلیم و وائس چیئرپرسن وومن پارلیمنٹری کاکس ایم پی اے مدیحہ نثار کا کہنا تھا کہ خواتین کی معاشرے میں اہمیت اجاگر کرنے کیلئے جہاں دنیا بھر میں عالمی دن منایا جاتا ہے، تو وہیں خواتین نے ثابت بھی کیا ہے کہ ان کی شمولیت کے بغیر کوئی بھی معاشرہ ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہوسکتا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ایم پی اے حمیرا خاتون نے دنیا بھر کی خواتین کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ خواتین نے ہمیشہ ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ جب خواتین بااختیار ہوتی ہیں تو وہ مثبت تبدیلی کا ذریعہ بنتی ہیں۔ اسلام نے خواتین کو جو حقوق دیے اسکی مثال نہیں ملتی۔