وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ تاریخ کو اپنی پسند ناپسند کی بجائے اس زمانے کے معروضی حالات میں سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ طلبہ کو اس ملک کی باگ ڈور سنبھالنی ہے انہیں تاریخ سے سبق حاصل کرتے ہوئے مستقبل پر نظر رکھنی چاہیے۔ معاون خصوصی اطلاعات بیرسٹر سیف نے ان خیالات کا اظہار ایریا سٹڈی سینٹر جامعہ پشاور کے دورے کے دوران کیا جہاں انہوں نے سینئر صحافی و مصنف زاہد حسین کی کتاب no-win war کی تقریب رونمائی میں شرکت کی۔ اس موقع پر ڈائریکٹر ایریا سٹڈی سنٹر کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر شبیر احمد، سابق وائس چانسلر جامعہ پشاور پروفیسر ڈاکٹر عظمت حیات، اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر شافی آفریدی، اساتذہ اور طلبہ موجود تھے۔منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے معاون خصوصی بیرسٹر سیف نے کہا کہ تاریخی حافظے کو مدنظر رکھ کر معروضی چیلنجز سے نمٹنا چاہیے جبکہ تاریخ کو اپنی پسند ناپسند کی بجائے انہی معروضی حالات میں سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان کو کئی سیکٹرز پر چیلنجز کا سامنا ہے لیکن عمران خان کی زیرک قیادت میں بہت جلد تمام چیلنجز پر قابو پانے میں کامیاب ہو جائیں گے جس میں طلباء و اکیڈیمیا کا کردار ضروری ہے۔ طلباء جدید ٹیکنالوجی اور اساتذہ کرام کی تجربات کو ساتھ لے کر تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دیں۔ بین الاقوامی سطح پر پاکستانی اساتذہ اور طلبہ نے ہمیشہ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔طلباء پر زور دیتے ہوئے معاون وزیراعلی بیرسٹر سیف نے ریمارکس دیئے کہ کامیاب اقوام ہمیشہ تاریخ سے سیکھتی ہیں۔ تاریخ سے سبق حاصل کریں لیکن نظر مستقبل پر رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلی خیبرپختونخوا محمود خان کے بھی واضح ہدایات ہیں کہ تحقیق، تخلیق اور جدید خطوط پر استوار تعلیمی تربیت کا ماحول جامعات میں فراہم کی جائے۔ امید ہے کہ اکیڈیمیا و طلبہ صوبائی حکومت کی جانب سے دی جانے والی سہولیات سے استفادہ حاصل کریں گے۔