وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان سے جمعرات کے روز بالاکوٹ ضلع مانسہرہ کے عمائدین کے ایک وفد نے ملاقات کی اور بالاکوٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی تعمیر کے سلسلے میں مقامی آبادی کے مسائل اور ان کے حل سے متعلق مختلف امورپر تبادلہ خیا ل کیا۔ وفد کی قیادت وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی احمد حسین شاہ کر رہے تھے۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ، سیکرٹری انرجی اینڈ پاور امتیاز حسین شاہ، وزیراعلیٰ کے اسپیشل سیکرٹری محمد خالق، چیف ایگزیکٹیو آفیسر پیڈو محمد نعیم ، ڈپٹی کمشنر مانسہرہ عدنان بٹینی اور دیگر متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وفد سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ بالاکوٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی تعمیر سے متاثر ہونے والی آبادی کے تمام حقوق کامکمل تحفظ یقینی بنایا جائے گا، اس سلسلے میں متاثرین اراضی اور مقامی آبادی کے ساتھ کئے گئے وعدے اور ان کے تمام جائز مطالبات پورے کئے جائیں گے اور اس حوالے سے ان کی جائز شکایات کا ازالہ کیا جائے گا۔ منصوبے کے تحت نن ٹیکنیکل آسامیوں کو مقامی لوگوں کاحق قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے یقین دلایا کہ کلاس فور سمیت نن ٹیکنیکل آسامیوں پر بھرتی کے لئے مقامی آبادی کو پہلی ترجیح دی جائے گی اور اس مقصد کے لئے پراجیکٹ آفس پشاور کی بجائے مانسہر ہ میں قائم کیا جائیگا۔ وزیراعلیٰ نے پراجیکٹ کے تحت نن ٹیکنیکل آسامیوں پر مقامی افراد کی بھرتی کو یقینی بنانے کے لئے ضلعی انتظامیہ ، پیڈواور مقامی افراد پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دینے کا بھی فیصلہ کیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ مالکان اراضی کو معاوضوں کی ادائیگیوں کے علاوہ متاثر ہونے والے مکانات اور دیگر انفراسٹرکچر کو ہونے والے نقصانات کا بھی ازالہ کیا جائیگا۔ متاثرین کو ریلیف دینے کے لئے حکومت سے جو کچھ بھی ہوسکا وہ ضرور کیا جائے گا۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ منصوبے کی تکمیل کے بعد حاصل ہونے والی رائیلٹی کا خاطر خواہ حصہ مقامی آبادی کی فلاح و بہبود پر خرچ ہوگا جبکہ بالاکوٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ سے بالاکوٹ گرڈ کو بجلی کی فراہمی سے علاقے میں لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ بھی مستقل بنیادوں پر حل ہوگا۔