خیبرپختونخوا کے وزیر زراعت ولائیوسٹاک محب اللہ خان نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت زراعت اور لائیو سٹاک کی ترقی پر خصوصی توجہ دے رہی ہے بنجر زمینوں کو سیراب کرنے کے لیے اربوں روپے کے منصوبے شروع کی ہے تاکہ بنجر زمینوں کو قابل کاشت بنایا جا سکے انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت زراعت کے شعبے میں انقلابی اقدامات اٹھا رہی ہے تاکہ ہمارا صوبہ زرعی پیداوار میں خود کفیل ہو سکے ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر نے زرعی یونیورسٹی پشاور میں ورلڈ سائل ڈے کے حوالے سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر وائس چانسلر زرعی یونیورسٹی پشاور جہان بخت ، ڈی جی سائل اینڈ واٹر کنزرویشن یاسین خان وزیر، ڈی جی لائیو سٹاک توسیع ڈاکٹر عالمزیب ڈی جی فشریز خسرو کلیم ڈی جی ایگریکلچر ریسرچ ڈاکٹر عبدالرؤف ودیگر بھی موجود تھے صوبائی وزیر نے کہا کہ ماضی میں حکمرانوں نے زرعی ترقی اور زرعی پیداوار پر کوئی توجہ نہیں دی جس کی وجہ سے آج زراعت کی پیداوار بڑھانے میں مشکلات پیش آ رہے ہیں لیکن تحریک انصاف حکومت شعبہ زراعت کو ترجیحی بنیادوں پر توجہ دے رہے ہیں اور اربوں روپے کے منصوبے شروع کیے ہیں جس سے زراعت ولائیوسٹاک میں بہتری آ رہی ہے اور وہ دن دور نہیں جب ہمارا صوبہ زرعی پیداوار میں خود کفیل ہوگا انہوں نے مزید کہا کہ صوبے میں دونئےزرعی یونیورسٹی جوکہ ڈیرہ اسماعیل خان اور ضلع سوات میں بن رہی ہیں جبکہ ویٹرنری سائنسز یونیورسٹی سوات پر بھی کام تیزی سے جاری ہے صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ صوبے میں 32 لاکھ ایکڑ بنجر زمین ہے جس کے لیے صوبائی حکومت نے ایک ارب روپے کا منصوبہ شروع کیا ہے تاکہ ان زمینوں کو قابل کاشت بنایا جا سکیں انہوں نے کہا کہ ماضی میں زراعت کے شعبے پر صرف دو ارب روپے خرچ ہورہے تھے لیکن ہماری حکومت نے زراعت کی ترقی کیلیے سو ارب روپے سے بھی ذیادہ مختص کیا ہے اس موقع پر دیگر مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ سائل اینڈ واٹر کنزرویشن صوبہ بھر میں بارانی پانی کو اکھٹا کرکے زمینوں کے استعمال میں لا رہے ہیں جس کے لئے 14 ارب روپے کے مختلف منصوبے شروع کیے ہیں سیمینار کے آخر میں صوبائی وزیر زراعت ولائیو سٹاک محب اللہ خان نے شیلڈ تقسیم کی