وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی زیر صدارت منگل کے روز ضلع ہری پور کے علاقہ مکھنیال میں جنگلاتی رقبے کے حوالے سے ایک اجلاس منعقد ہوا ، جس میں مکھنیال کے جنگلات سے متعلق تمام جملہ مسا ئل کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کے لئے کمشنر ہزارہ ڈویژن کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا جو ایک ماہ کے اندر تمام مسائل کا حل پیش کرے گی۔ صوبائی وزیر برائے آبپاشی ارشد ایوب کے علاوہ وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری امجد علی خان، کمشنر ہزارہ ڈویژن مطاہر زیب ، ڈپٹی کمشنر ہری پور، ڈائریکٹر جنرل گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔
اجلاس میں گزارہ فارسٹ کے منظم انتظام و انصرام کو یقینی بنانے کے لئے الگ سے ایک ایکٹ لانے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ اجلاس کو مکھنیال میں جنگلاتی رقبے کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایاگیا کہ مکھنیال میں جنگلاتی رقبے پر ہر قسم کی تعمیراتی سرگرمیوں پر پابندی عائد ہے اور جنگلاتی رقبے پر زمینوں کے خرید و فروخت کے لئے انتقالات و فرد کے اجراءبھی نہیں کیا جارہا۔مزید بتایاگیا کہ مکھنیال جنگلات کی حدود میں زوننگ کی جائے گی تاکہ جنگلاتی رقبے کو محفوظ بنایا جا سکے۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مکھنیال جنگلات اور ان کے گرد و نواح میں تعمیراتی سرگرمیوں پر پابندی کا مقصد علاقے کے قدرتی حسن کو برقرار رکھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگلات کا تحفظ حکومت کے ترجیحی اقدامات میں سرفہرست ہے ۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ نے کمشنر ہزارہ کو ایک ہفتے کے اندر اندر مکھنیال میں زمینوں کی خرید و فروخت کے سلسلے میں انتقالات پر پابندی ہٹانے سے متعلق تجاویز پیش کرنے کی ہدایت کی۔