وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی خصوصی ہدایت پر صوبائی وزیر برائے ریلیف و آباد کاری اقبال وزیر نے ضلع ٹانک کا تفصیلی دورہ کیا اور وہاں پر وزیر قبائل اور محسود قبائل کے تمام مسائل کا باریک بینی سے جائزہ لیا اور دونوں اقوام سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کر کے ان کے مسائل کے حل کی یقینی دہانی کرائی۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر جنوبی وزیرستان خالد اقبال اور اسسٹنٹ کمشنر لدھا بھی موجودتھے۔اس موقع پر صوبائی وزیر محمد اقبال وزیر نے کہا کہ اپریشن کے دوران جنوبی وزیرستان میں جن لوگوں کے گھر تباہ ہوئے ہیں ان کو معاوضوں کی ادائیگیاں ہو رہی ہیں اور جو سروے سے رہ گئے ہیں ان کیلئے بھی دوبارہ سروے کا اہتمام کیا جائے گا۔ اس موقع پر قبائل نے اپریشن کے دوران ان کے دکانات اور مارکیٹیں منہدم ہونے اور ان کو معاوضہ دینے کی بات  کی گئی جس پر صوبائی وزیر اقبال خان وزیر نے کہا کہ اس سلسلے میں وزیرِ اعلیٰ سے ملاقات کر کے متاثرین کو معاوضوں کی ادئیگیوں کو یقینی بنانے کی کوشش کرونگا۔ اس موقع پر صحت کی سہولیات سے متعلق مسائل پر موقع پر ہدایات جاری کیں اور کہاکہ حکومتی وژن کے مطابق صحت سے متعلق کسی بھی قسم کی کمی نہیں ہونی چاہیے۔ تعلیم سے متعلق ان کی شکایات پر بھی موقع پر ہدایت جاری کر تے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ نونہالانِ قوم کو مسقبل کے معماربنانے کیلئے تعلیم ہی واحد راستہ ہے اس لئے تعلیمی مسائل کے حل پر میرا ہمیشہ خصوصی فوکس رہا ہے۔ اس موقع پر گورنمنٹ پرائمری سکول کوٹ عجب خان منتوئی کی اپگریڈیشن کی منظور ی بھی دی گئی تاکہ طلباء اپنے علاقے میں ہی بنیادی تعلیم حاصل کر سکے۔ صوبائی وزیر اقبال خان وزیر نے قبائل کو یقینی دلایا کہ آرمی جن لوگوں کے گھروں میں رہائش پذیر ہے ان کو کرایہ کی مدمیں وصولیوں کے سلسلے میں اپنا کردار ادا کرونگا اور اس ضمن جلد سے جلد اقدامات کئے جائینگے اور لوگوں کو کرایہ دیا جائے گا۔ بعدازاں قبائل کے درمیان اپریشن راہِ نجات کے دوران منہدم گھروں کو معاوضوں کے چیک بھی تقسیم کئے گئے اور قبائل نے صوبائی وزیر کا شکریہ ادا کیا۔