وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان کی زیر صدارت صوبے میں اشیائے خوردونوش کی دستیابی اور ان کی قیمتوں سے متعلق ایک اجلاس بدھ کے روز منعقد ہوا جس میں اشیائے ضروریہ کی تازہ قیمتوں ، دستیابیکی صورتحال اور حکومت کی جانب سے اشیائے خوردو نوش کے مقرر کردہ نرخوں پر عمل درآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ۔ صوبائی وزیر خوراک عاطف خان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ کے علاوہ متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز اور دیگر متعلقہ حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی ۔ اجلاس کو صوبے میں اشیائے خوردو نوش کی موجودہ قیمتوں ، اشیائے ضروریہ کی دستیابی کی صورتحال اور دیگر اُمور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران دو اشیائے خوردو نوش کی قیمتوں میں کمی آئی ہے جبکہ آٹھ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں استحکام رہا ہے جن میں باسمتی چاول ، بیف ، مٹن ، چینی ، دال مسور، دال مونگ، دال ماش اور دیگر شامل ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبے میں چینی کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے سلسلے میںگزشتہ ایک ہفتے کے دوران 582 یونٹس کو چیک کیا گیا اور متعلقہ قوانین کی خلاف ورزی پر تقریبا ً40 ہزارروپے کے جرمانے عائد کئے گئے ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ یکم اکتوبر سے اب تک 22,986 دکانوں کو چیک کیا گیا جن میں سے728 دکانوں کو مقررہ نرخ سے زائد پر بیچنے ، سرکاری نر خنامے کی عدم دستیابی اور دیگر متعلقہ قوانین کی خلاف ورزی کی بناءپر سیل کیا گیا ، 354 دکانوں کے خلاف ایف آئی آرزدرج کرائی گئیں اور4181 دکان مالکان کو وارننگز جاری کی گئیں ۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ ان انسپکشنز کے دوران تقریباً46 لاکھ روپے کے جرمانے بھی عائد کئے گئے ۔ مزید بتایا گیا کہ پاکستان سٹیزن پورٹل پراشیائے خوردونوش کے مقررہ نرخ سے زائد پر بیچنے سے متعلق رواں ماہ اب تک 196 شکایات موصول ہوئی ہیں جن میں سے 126 کونمٹا دیا گیا ہے جبکہ باقی ماندہ کو ٹائم لائنز کے مطابق نمٹانے پر کام جاری ہے ۔