خیبرپختونخوا میں بچوں کو خسرہ سے بچاؤ کی روبیلا ویکسین آئندہ ماہ سے لگائی جائی گی۔ جس کے لیے عملے کی تربیت کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ صوبے میں پولیو کے خاتمے کے لیے تمام ادارے مل کر کام کر رہے ہیں۔ اضلاع کی انتظامیہ، محکمہ صحت اور محکمہ پولیس کی کاوشوں سے ہر آنے والی انسداد پولیو مہم اپنے ہدف کے قریب سے قریب تر ہوتی جا رہی ہے۔ پولیو ٹیموں کی سیکورٹی کو مزید بہتر بنایا جائے گا جبکہ کسی بھی ضلع کے معروضی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے انسداد پولیو مہم مقررہ دنوں سے پہلے یا بعد میں کی جا سکے گی۔ انسداد پولیو مہم کے دوران ہائی رسک یونین کونسلز پر زیادہ توجہ دی جائے گی۔ یہ فیصلے چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ڈاکٹر کاظم نیاز کی سربراہی میں منعقد ہونے والے صوبائی ٹاسک فورس برائے انسداد پولیو کے اجلاس میں کیے گئے۔ ٹاسک فورس اجلاس میں رواں ماہ شیڈول انسداد پولیو مہم اور آئندہ ماہ خسرہ سے بچاؤ کی ویکسینیشن مہم کے حوالے سے اقدامات اور انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔ انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبرپختونخوا معظم جاہ انصاری، چیئر پرسن قائمہ کمیٹی برائے صحت ایم پی اے رابعہ بصری، سیکرٹری محکمہ صحت طاہر اورکزئی، ایڈیشنل سیکرٹری محکمہ داخلہ، سیکرٹری ایجوکیشن، ڈی جی ہیلتھ سروسز، تمام ڈویژنل کمشنرز، آر پی اوز، تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز، ایمرجنسی آپریشن سنٹر خیبرپختونخوا کے کوآرڈینیٹر عبدالباسط، یونیسیف حکام اور نیشنل ای او سی کے حکام نے شرکت کی۔ صوبائی ای او سی کے کوآرڈینیٹر عبدالباسط نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ نیشنل ای او سی سے بات چیت کے بعد صوبے میں مذہبی تہواروں اور تعطیلات کے دوران کوئی مہم نہیں چلائی جائے گی۔ اسی طرح ٹاسک فورس کی ہدایت پر صوبائی دارالحکومت کی 4 یونین کونسلز میں ویکسینیٹرز کی ٹریکنگ کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ نیشنل پروفیشنل آفیسر ای پی آئی نے اجلاس میں بتایا کہ آئندہ ماہ نومبر سے خیبر پختونخوا سمیت ملک بھر سے خسرہ سے بچاؤ کی روبیلا ویکسین لگانے کا آغاز کیا جائے گا۔