وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے صوبائی دارالحکومت پشاور میں ٹریفک کے مسائل کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کے لئے صوبائی وزیر تیمور سلیم جھگڑا کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے 15 دنوں کے اندر اس سلسلے میں ایک جامع اور قابل عمل پلان تیار کرکے منظوری کے لئے پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ مذکورہ پلان قلیل المدتی اور طویل المدتی اقدامات پر مشتمل ہوگا جس پر عملدرآمد سے شہر میں ٹریفک سے جڑے مسائل کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے میں مدد ملے گی۔ وزیر اعلی کے معاون خصوصی کامران بنگش کے علاوہ کمشنر پشاور، ٹریفک پولیس کے سربراہ اور دیگر تمام متعلقہ شراکت دار کمیٹی میں شامل ہونگے۔ یہ فیصلہ منگل کے روز ٹریفک مسائل کے حل سے متعلق وزیر اعلی کی زیر صدارت منعقدہ ایک اجلاس میں کیا گیا۔صوبائی کابینہ اراکین تیمور سلیم جھگڑا، کامران بنگش کے علاوہ، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریوں، کمشنر و ڈپٹی کمشنر پشاور، ڈی جی پی ڈی اے، سی سی پی او پشاورچیف ٹریفک پولیس اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔
اجلاس میں پشاور شہر میں ٹریفک کے مسائل کو جنم دینے والے جملہ عوامل کی نشاندہی گی گئی اور ان عوامل کو کل وقتی طور پر حل کرنے کیلئے مختلف اقدامات پر غورو خوص کیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ دیگر عوامل کے علاوہ شہر کے بعض تجارتی مقامات پر بغیر پارکنگ کے پلازوں کی وجہ سے ٹریفک کی روانی متاثر ہورہی جبکہ بعض مقامات پر سڑک تنگ ہونے کی وجہ سے ٹریفک کے مسائل پیدا ہورہے ہیں۔ اجلاس میں بغیر پارکنگ کے پلازوں کو پارکنگ کا بندوبست کرنے کے لئے نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے ہدایت کی گئی کہ نوٹسز کے اجراءکے ایک مہینے بعد پارکنگ کا بندوبست نہ کرنے والے پلازوں کے خلاف بلا امتیاز کاروائی کی جائے۔ اجلاس میں متعلقہ حکام کو بعض جہگوں پر سڑکوں کو کھولنے کے لئے بھی لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت کی گئی۔ اجلاس سے اپنے خطاب میں وزیر اعلی نے شہر میں ٹریفک کے مسائل کے حل کے لئے قلیل المدتی اور طویل المدتی پلان کے ساتھ ساتھ شہریوں کو ٹریفک قوانین پر عملدرآمد کے سلسلے میں آگہی دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ٹریفک پولیس کے اعلی حکام کو وسیع پیمانے پر عوامی آگہی مہم شروع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ایک مہینے تک ہیلمٹ اور سیٹ بیلٹ کے استعمال سمیت دیگر احتیاطی تدابیر اور ٹریفک قوانین خصوصاً کم عمر بچوں اور غیر لائیسنس یافتہ افراد کے موٹر سائیکل چلانے کی حوصلہ شکنی کے لئے آگہی مہم چلائی جائے جس کے بعد خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائیاں عمل میں لائی جائیں۔