خیبر پختونخوا کےوزیرزراعت و لائیوسٹاک محب اللہ خان نے کہا ہے کہ ماضی میں حکومتوں نے زراعت کے شعبہ کو نظرانداز کیاگیاتھا جس کی وجہ زراعت کی ترقی میں اہم پیش رفت نہیں ہوسکی لیکن جب سے یہ حکومت اقتدار میں آئی ہے تو وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلیٰ محمودخان نے ذاتی دلچسپی لیتے ہوئے شعبہ زراعت پر خصوصی توجہ دی کیونکہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور ذیادہ تر لوگوں کا انحصار زراعت پر ہے ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر زراعت ولائیوسٹاک نے جمعہ کے روز اسلام آباد کے ایک مقامی ہوٹل میں ورلڈ بینک کی تعاون سے ڈائریکٹوریٹ جنرل آن فام واٹر مینجمنٹ کی دو روزہ اورینٹیشن ورکشاپ سے خطاب کررہے تھے اس موقع پر سیکرٹری زراعت ولائیوسٹاک ڈاکٹر محمد اسرار، ڈائریکٹرجنرل واٹر مینجنمنٹ جاویداقبال خٹک، ورلڈ بینک کے نمائندوں اور واٹر مینجمنٹ کے ضلعی افسران نے شرکت کی صوبائی وزیر نے ورلڈ بینک کی تعاون سے جاری پراجیکٹ irrigated agriculture improvement project Khyber Pakhtunkhwa کی تعریف کی اور کہا کہ مذکورہ پراجیکٹ پر 30ارب روپے خرچ ہونگے جس میں 14ہزار 250 واٹر کورسسز بنائے جائینگے اور 5ہزار پانی ذخیرہ کرنے۔کے تالاب بنائے جایینگے جبکہ11ہزار فوارہ جاتی نظام برائے آبپاشی بنائے جائینگے جس سے صوبے کے زمیندار مستفید ہونگے اور کاشتکاری میں کافی مددگار ثابت ہوگی انہوں نے کہا کہ صوبے میں فوڈ سیکورٹی پالیسی بنی ہے زراعت کے شعبہ میں مشکلات ہے لیکن اس پر قابو پاکر خیبر پختونخوا کو فوڈ باسکٹ بنارہے ہیں انہوں نے افسران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ زراعت کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں انہوں نےورلڈ بینک کا خیبر پختونخوا حکومت کے ساتھ تعاون پر شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی ورلڈ بینک پاکستان اور خیبر پختونخوا کو اسی طرح سپورٹ کریگی