وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے تمام متعلقہ حکام کو صوبے کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتالوں کی تجدید کاری کے منصوبے پر مقررہ ٹائم لائن کے مطابق عملی پیشرفت یقینی بنانے کی ضروری اقدامات کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کی کوشش ہے کہ آئندہ دو سالوں میں صوبے کے تمام ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتالوں کی تجدید کاری کا عمل ہر لحاظ سے مکمل کرلیا جائے۔ ا±نہوں نے اس مقصد کیلئے منصوبے کے پہلے مرحلے میں شامل ہسپتالوں پر طے شدہ ٹائم لائن کے مطابق عملی کام کا اجراءکرنے جبکہ نومبر تک تمام پیکجز کی ڈیزائننگ کا عمل مکمل کرنے اور ٹینڈر ڈاکومنٹس کی تیاری یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی ہے تاکہ عوامی فلاح کے اس منصوبے کو تیز رفتاری سے مکمل کیا جا سکے۔ وہ وزیراعلیٰ ہاوس پشاور میں اس سلسلے میں ایک اہم اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ سیکرٹری محکمہ صحت امتیاز حسین شاہ، وزیر اعلی کے پرنسپل سیکرٹری امجد علی خان، سیکریٹری مواصلات و تعمیرات اعجاز حسین انصاری اور ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ ڈاکٹر نیاز کے علاوہ دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس کو منصوبے پر عملدرآمد کے طریقہ کار، اب تک کی پیشرفت اور دیگر مختلف پہلوو¿ں کے حوالے سے بریفینگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ منصوبے کے تحت آئندہ دو سالوں میں صوبے کے تمام ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتالوں کی ری ویمپنگ کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ منصوبے کا کل تخمینہ لاگت 14.9 ارب روپے ہے۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ تمام ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتالوں کے چار مختلف فیزز بنائے گئے ہیں۔بندوبستی اضلاع کے25 ہسپتالوں پر مشتمل پہلے تین فیز ز کو سات پیکجز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں چارسدہ، ایبٹ آباد، ہری پور اور کرک کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتالوں کے علاوہ مولوی جی ہسپتال پشاور اور نصیر ﷲ بابر ہسپتال پشاور شامل ہیں جن کودو پیکجز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے پہلے فیز میں شامل ہسپتالوں پر عملی کام کا بروقت اجرا کرنے جبکہ دیگر پیکجز کی ٹینڈر دستاویزات ، ڈیزائننگ اور پی سی ونز سمیت دیگر تمام ضروری لوازمات آئندہ نومبر تک مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ صوبائی حکومت عوام کو ان کی دہلیز پر صحت کی معیاری سہولیات فراہم کرنے کیلئے اس منصوبے کو آئندہ دوسالوں کے اندر بہر صورت مکمل دیکھنا چاہتی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ اس مقصد کیلئے محکمہ صحت سمیت تمام سٹیک ہولڈرز کو اپنی ذمہ داریاں بروقت ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ بڑی اہمیت کا حامل ہے جس کی تکمیل سے صوبے کے دور دراز علاقوں کے عوام کو صحت کی معیاری سہولیات کی فراہمی کو مقامی سطح پر یقینی بنانے اور صوبے کے تدریسی ہسپتالوں پر مریضوں کا بوجھ کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔