ضلع بنوں کے جانی خیل قبیلے کے عمائدین پر مشتمل 40 رکنی ایک جرگے نے جمعرات کے روز وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان سے ملاقات کی اور علاقے کے لوگوں کو درپیش جملہ مسائل کے بارے میں وزیراعلیٰ کو تفصیل سے آگاہ کیا۔ صوبائی وزیر شاہ محمد وزیر کے علاوہ چیف سیکرٹری ڈاکٹر کاظم نیاز، انسپکٹر جنرل پولیس معظم جاہ انصاری، کمانڈنٹ فرانٹیر کانسٹیبلری صلاح الدین، ایڈیشنل چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ ، کمشنر ، ریجنل پولیس آفیسر ، ڈپٹی کمشنر اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر بنوں بھی اس موقع پر موجود تھے ۔
جرگے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے جانی خیل کے عوام کے تمام مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے ، علاقے میں امن و امان کو برقرار رکھنے اور علاقے کو تیز رفتار بنیادوں پر ترقی دینے کا یقین دلاتے ہوئے علاقے کیلئے دو ارب روپے کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے علاوہ شکتو ڈیم کی تعمیر کیلئے بھی دو ارب روپے دینے کا اعلان کیا۔ وزیراعلیٰ نے علاقے کے نوجوانوں کو روزگار دینے کیلئے فرانٹیر کانسٹیبلری میں علاقے کے نوجوانوں پر مشتمل پانچ پلاٹونز بھرتی کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ بھرتی ہونے والے نوجوانوں کے تمام اخراجات صوبائی حکومت برداشت کرے گی ۔ اُنہوںنے متعلقہ حکام کو اس سلسلے میں جلد سے جلد ایک کیس تیار کرکے منظوری کیلئے پیش کرنے کی ہدایت کی ۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ نے جانی خیل میں پولیس اسٹیشن کی تعمیر کرنے کا بھی اعلان کیا۔ علاوہ ازیں وزیراعلیٰ نے ترجیحی بنیادوں پر علاقے میں ہسپتالوں ، تعلیمی اداروں ، سڑکوں اور دیگر ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کی بھی یقین دہانی کی ۔ علاقے کی پائیدار بنیادوں پر ترقی کیلئے امن و امان کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہاکہ صوبائی حکومت علاقے میں مثالی امن کے قیام اور گارگٹ کلرز سمیت دیگر شر پسند عناصر کا قلع قمع کرنے کیلئے سنجیدہ اقدامات اُٹھا رہی ہے ۔ اُنہوںنے علاقے کے عمائدین پر زور دیا کہ وہ بھی اس سلسلے میں اپنا اہم کردار ادا کریں۔ وزیراعلیٰ نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ بعض عناصر اپنے سیاسی مقاصد کیلئے جانی خیل کے عوام کو حکومت کے خلاف اُکسانے کی کوشش کی لیکن جانی خیل باشعور عوام نے اُن کی کوششوں کو ناکام بنا دیا۔ محمود خان کا کہنا تھا کہ بحیثیت وزیراعلیٰ اُن کی خواہش اور کوشش ہے کہ صوبے کے کونے کونے میں امن اور ترقی ہو جس کیلئے نتیجہ خیز اقدامات کئے جارہے ہیں۔