سیکرٹری ورکس اینڈ سروسز خیبر پختونخواہ اعجاز حسین انصاری اور انجینئر عطاء الرحمن ڈی جی سمال ڈیمز نے کہا ہے کہ محکمہ ورکس اینڈ سروسز میں 532 نئی آسامیاں پیدا کی گئی ہیں جس میں تمام کیڈرز کی آسامیاں شامل ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ کے پی کے میں نئے انجینئرز کے لیئے معاوضے کے ساتھ ایک سال کی انٹرنشپ کروائی جائے گی اور انجینئرز کو درپیش مسائل کے حل کیلئے پورے محکمے کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے جس میں بڑے پیمانے پر روزگار کے ساتھ ساتھ انجینئرز کو درپیش مسائل حل ہو جائیں گے پاکستان انجینئرنگ کونسل ایک ریگولیٹری اتھارٹی ہے جو کہ اس شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور مزید فعال بنانے اور انجینئرز کو درپیش مسائل حل کرنے میں اپنا بھر پور کردار ادا کر رہی ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایبٹ آباد کے مقامی ہوٹل میں پاکستان انجینئرنگ کونسل کے تین سالہ انتخابات کی انتخابی مہم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا تقریب میں ہزارہ ڈویژن کے تمام تعمیراتی محکموں، کامسیٹس یونیورسٹی سمیت دیگر اداروں کے انجینئرز اور ریٹائرڈ انجینئرز بھی شریک تھے تقریب سے ایس ای انجینئر رفیع الدین، انجنیئر بشارت، ریٹائرڈ انجینئر پی ٹی وی بابر خان، و دیگر نے بھی خطاب کیا اور انجینئرز کو درپیش مسائل کے بارے اظہار خیال کیا تقریب میں مختلف عہدوں سے متعدد انجینئرز کی ایک بڑی تعداد نے بھی شرکت کی اس موقع پر تقریب کے مہمان خصوصی اور انجینئرنگ کونسل میں نائب صدر کے امیدوار سیکرٹری ورکس اینڈ سروسز خیبر پختونخواہ اعجاز حسین انصاری نے کہا ہے کہ آٹھ اگست کو ہونے والے انتخابات میں ہمارا پینل بھر پور انداز میں کامیابی حاصل کر کے پورے ملک کے انجینئرز کو درپیش مسائل حل کرنے کے ساتھ ساتھ انجینئرنگ کے نصاب میں جدید خطوط کی بنیاد پر دنیا کے باقی ممالک کے نصاب کو مد نظر رکھتے ہوئے تبدیلی کرے گا اور انجینئرز کے سروسز سٹرکچر کے ساتھ ساتھ انجینئرنگ کونسل کے دفاتر صوبائی سطح سے ڈویژنل سطح پر منتقل کیئے جائیں گے حاضر اور ریٹائرڈ انجینئرز کی مختلف سطحوں پر ریسرچ ورک پر بھر پور توجہ دی جائے گی اور اس لیئے ریسرچ لیب بنائی جائیں گے نئے آنے والے انجینئرز کی پورے ملک میں ڈاکٹرز کی طرح ایک سال کی انٹرنشپ کروائی جائے گی جس میں ان کو معقول
معاوضہ دیا جائے گا اور انجینئرنگ کونسل کو مزید فعال اور مضبوط بنایا جائے گا انہوں نے کہا کہ حکومتی پالیسیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے گزشتہ دو سال کے دوران نہ صرف صوبہ خیبر پختونخواہ میں محکمہ ورکس اینڈ سروسز کو از سر نو تعمیر کیا جس میں پانچ سو بتیس نئی آسامیاں پیدا کیا گئی ہیں جن میں چیف انجینئرز، ایس ای، ایگزیکٹو انجینئرز، مانیٹرنگ انجینئرز، اسسٹنٹس، سمیت دیگر آسامیاں شامل ہیں جبکہ اس کے ساتھ ساتھ صوبے میں نئے آنے والے انجینئرز کو ایک سال کی انٹرنشپ دی جائے گی جس میں صوبائی حکومت باقاعدہ معاوضہ دے گی۔ ۔