منرل انویسٹمنٹ فسیلٹیشن اتھارٹی کا ایک اجلاس پیر کے روز وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں صوبے میں جیم اسٹون لیبارٹری اور ٹیکنکل ٹریننگ اینڈ سر ٹیفیکیشنسنٹر کے قیام کیلئے محکمہ معدنیات کو نجی شعبے کے ساتھ باہمی اشتراک کا ر (جوائنٹ ونچر) کی اُصولی منظوری دے دی گئی ۔جیم اسٹون لیبارٹری اورسر ٹیفیکیشن سنٹر کے قیام کا مقصد صوبے میں پائے جانے والے قیمتی پتھروں کو خام شکل کی بجائے جدید طرز پر اُنکی تراش خراش کرکے اُنہیں برانڈز کی صورت میں بین الااقوامی مارکیٹوں میں متعارف کروانا ہے تاکہ ان قیمتی پتھروں کی قیمت میں کئی گنا اضافہ کرکے صوبے کی آمدنی میں اضافہ کیا جا سکے ۔ یہ جیم اسٹون لیبارٹری، ٹیکنکل ٹریننگ اینڈ سر ٹیفیکیشنسنٹر حیات آباد پشاور میں واقع منرل ٹیسٹنگ لیبارٹری کی موجودہ عمارت میں قائم کی جائے گی جس کیلئے نجی شعبے کی کمپنیوں کے ساتھ جوائنٹ ونچر کیا جائے گا۔ اجلاس میں محکمہ معدنیات کو اس مقصد کیلئے نجی شعبے کے ساتھ جوائنٹ ونچر کی اُصولی منظوری دیتے ہوئے ہدایت کی گئی کہ وہ اس سلسلے میں مروجہ قواعد وضوابط اور شرائط پر عمل درآمد کو یقینی بنائے گا۔جیم اسٹون لیبارٹری ، ٹیکنکل ٹریننگ اینڈسر ٹیفیکیشن سنٹر میں قیمتی پتھروں کی جدید طرز پر تراش خراش کرکے اُنہیں برانڈ مصنوعات کی شکل دینے اور اُنہیں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ سر ٹیفکیٹ کے اجراءکے علاوہ قیمتی پتھروں کی تراش خراش کیلئے فنی تربیت بھی فراہم کی جائے گی ۔ مذکورہ لیبارٹری اور سنٹر میں تربیت یافتہ افرادی قوت اور مشینری کے علاوہسر ٹیفیکیشن کی سہولت نجی کمپنیاں فراہم کریں گی ۔
اجلاس میں گزارا فارسٹ میں معدنی سرگرمیوں سے متعلق اُمور بھی زیر بحث آئے اور تفصیلی غور وخوض کے بعد ایڈیشنل چیف سیکرٹری کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا گیا جو ایک مہینے کے اندر گزارا فارسٹ میں معدنی سرگرمیاں شروع کرنے کے سلسلے میں تمام معاملات کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد عمل درآمد کیلئے ٹھوس تجاویز پیش کرے گی ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ موجودہ صوبائی حکومت صوبے کے بیش بہا معدنی وسائل کو موثر انداز میں استعمال میں لاکر لوگوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے اور صوبے کی معیشت کو مستحکم کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات اُٹھارہی ہے ۔