صوبائی وزیرتعلیم شہرام خان ترکئی نے ہدایت کی ہے کہ صوابی، مہمند اور بونیر اضلاع میں ماربل فیکٹریز کی اوورلوڈ گاڑیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل حل کرنے کیلئے متعلقہ سٹیک ہولڈرز کیساتھ مشاورت کا عمل شروع کیاجائے اور سفارشات اگلے اجلاس میں پیش کی جائے۔ انہوں نے ہدیات کی ہے کہ تمام متعلقہ انڈسٹریز کے ساتھ محکمہ انڈسٹریز جبکہ ٹرانسپورٹرز کیساتھ محکمہ ٹرانسپورٹ اور ماربل فیکٹریز و تمام لیز ہولڈرز کیساتھ محکمہ مائننگ لائحہ عمل طے کریں جبکہ ضلعی سطح پر بھی کمیٹیوں کے قیام کیلئے فوراً سفارشات تیارکی جائے۔
یہ ہدایات صوبائی وزیرتعلیم نے صوابی، بونیر اور ضلع مہمند کے اوورلوڈگاڑیوں کی وجہ سے روڈز کے مسائل حل کرنے کیلئے قائم کیبنٹ کمیٹی کی صدارت کرتے ہوئے جاری کی۔ صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ ملک شاہ محمدوزیر، صوبائی وزیرقانون سلطان محمد خان وزیراعلی کے معاون خصوصی برائے انڈسٹریز عبدالکریم خان ، معاون خصوصی برائے مواصلات وتعمیرات ریاض خان، سیکرٹری ٹرانسپورٹ ذاکرحسین افریدی اور متعلقہ محکموں کے حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔

شہرام خان ترکئی نے کہاکہ متعلقہ محکموں کیساتھ کی جانیوالی ڈسکشن میں لوڈ کی مقدار، بڑی گاڑیوں کیلئے علیحدہ روٹس، اوربونیرمیں انڈسٹری کے قیام کو پروپوزل میں شامل کردیاجائے۔
انہون نے کہاکہ برانچ روڈ پرمقررہ وزن سے زیادہ وزن کے گاڑیوں کے گزرنے کی وجہ سے روڈز بھی خراب ہورہے ہیں اور لوکل آبادی کو بھی شدید مشکلات ہیں اس لئے روڈز کے معیار اور وزن کیلئے مخصوصی کپیسٹی مقررکی جائیگی۔

صوبائی وزیرقانون سلطان محمدخان نے کہاکہ اس کمیٹی کے سفارشات کی روشنی میں بننے والے قانون پر من وعن عمل کرنے کیلئے تمام تعلقہ ادارے اور ڈسٹرکٹ لیول کمیٹیاں ایکشن پلان بنائے گی اور باقاعدہ آگاہی مہم بھی چلائی جائیگی۔

معاون خصوصی برائے مواصلات وتعمیرات ریاض خان نے کہاکہ بونیر میں تقریباٌ 500 ماربل پوائنٹس ہیں جس کی وجہ سے مین اورمتعلقہ روڈز خراب ہورہے ہیں اسی طرح ضلع مہمند کابھی مسئلہ ہے، کمیٹی کے سفارشات کی روشنی میں بننے والے قانون کے تحت ان روڈز کے مسائل مستقل بنیادوں پرحل ہوجائیں گے۔

وزیرتعلیم شہرام خان ترکئی نے کہاکہ مین انڈسٹریز کے علاوہ لوکل لیز کیلئے بھی قانون وضع کیاجائیگا جہاں پر مائننگ ہوگی وہاں پرویٹ مشین کو استعمال میں لایاجائیگا۔