وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے مواصلات و تعمیرات ریاض خان نے کہا کہ تحریک انصاف نے روایتی سیاست ختم کرکے جذبہ خدمت خلق سے سرشار سیاست کو متعارف کردیا ہے ماضی میں باری باری حکومتیں کرنے والوں اور ملک کو مقروض کرنے والوں کو عوام نے مسترد کر دیا ہے آج ملک پر قرضوں کا جو بوجھ ہے اس کی ذمہ دار ماضی کے کرپٹ اور بد عنوان حکمران ہیں ذاتی مفادات کیلئے اکٹھے ہونے والا ٹولہ جتنا بھی زور لگائیں عمران خان نے ان کو این آر او نہیں دینا ہے ملک میں گیارہ جماعتیں اپنی کرپشن بچانے کیلئے تحریک انصاف کے خلاف متحد ہو گئے ہیں ترقی اور خوشحالی کے نئے سفر کا آغاز ہو چکا ہے عوام موجودہ حکومتی کارکردگی سے مطمئن ہے لیکن عقل کے اندھوں کو حکومتی کارکردگی نظر نہیں آ رہی ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے کالاخیلہ تودہ چینہ میں ایک بڑے شمولیتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر ایم این اے شیر اکبر خان نے بھی شمولیتی تقریب سے خطاب کیا اس موقع پرکئی سیاسی خاندانوں نے اپنے سینکڑوں ساتھیوں سمیت تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کیا معاون خصوصی ریاض خان اور ایم این اے شیر اکبر خان نے شمولیت اختیار کرنے والوں کو پارٹی کی ٹوپیاں پہنائی اور خوش آمدید کہا ریاض خان نے کہا کہ موجودہ حکومت کی کارکردگی گزشتہ ادوار پر بھاری ہے اور ہم نے مختصر وقت میں تعمیر و ترقی کیلئے جو عملی اقدامات اُٹھا رکھے ہیں ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی انہوں نے کہا کہ ترقی اور خوشحالی کا یہ سفر جاری رہے گا تحریک انصاف نے قوم کا پیسہ قوم پر خرچ کرنے کو یقینی بنا دیا ہے یہ پیسے ہمارے ذاتی نہیں ہے بلکہ یہ قوم کے پیسے ہیں انہوں نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں نے عوام کیلئے کچھ بھی نہیں کیا انہوں نے کہا کہ ماضی کے برعکس تعمیر وترقی اور عوام کی خوشحالی کے منصوبوں پر توجہ دی جا رہی ہے انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے جس طرح ملک کی سیاست میں ایک خوشگوار تبدیلی لائی ہے اس طرح طرز حکمرانی بھی تبدیل کر دی ہے اور حکمرانوں کو عوام کے خادم بنادیا ہے انہوں نے کہا کہ ترقی اور خوشحالی کے خواب کو عمران خان نے شرمندہ تعبیر کرکے دکھا دیا ہے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے پاس عوام کے فلاح و بہبود اور عوام کیلئے کوئی پروگرام نہیں ہے ان کا ایجنڈا ذاتی مفادات پر مبنی ہے اسلئے عوام ان کے بیانیہ کا ساتھ نہیں دے رہے ہیں عوام نے ان کا بیانیہ مسترد کر دیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ لوگ تحریک انصاف میں شامل ہو رہے ہیں۔