خیبر پختونخوا اسمبلی کے سٹینڈنگ کمیٹی برائے صحت کی چئیر پرسن رابعہ بصری نے کہا ہے کہ محکمہ صحت کو صوبہ بھر میں صحت مند کلچر بنانے کے لیے کوششیں کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو پھر لوگ بیمار ہی نہیں ہونگے اور ان کے علاج معالجے پر خرچ ہونے والے اربوں روپے عوام کے تعلیم و تربیت اور فلاح و بہبود پر خرچ کئے جاسکیں گے۔
یہ بات انہوں نے منگل کے روز خیبرپختونخوا اسمبلی میں صحت کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے صحت کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ ارکان اسمبلی لطف الرحمٰن، محمد ظاہر شاہ طورو، شاہ فیصل خان، ریحانہ اسماعیل، انیتہ محسود، اور سیکرٹری صحت کے علاؤہ افسران کی ایک بڑی تعداد اس موقع پر موجود تھی۔
اجلاس میں خطاب کے دوران سٹینڈنگ کمیٹی کے چیئر پرسن رابعہ بصری نے کہا ہے کہ محکمہ صحت عوام کو علاج معالجے کی بھرپور کوششیں کر رہی ہے لیکن تیزی سے بڑھتی ہوئی ابادی اور صحت مند کلچر کے شدید فقدان کی وجہ سے ہمارے مسائل دن بدن پیچیدہ ہو رہے ہیں۔ اس صورت حال میں دستیاب وسائل اور حکومتی کوششیں وقت کے چیلنجز کے حوالے سے ناکافی لگتی یے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت کا تقاضا ہے کہ ایک صحت مند کلچر فروغ دینے کے لیے عوام میں شعور کی بیداری کا ایک سپیشلائزڈ پروگرام چلانے کی ضرورت ہے۔ صحت مند کلچر کے فروغ سے عوام کے نوے فیصد مسائل خود بخود حل ہوجائنگے اور ان کی زندگی میں بڑھنے والے مشکلات میں کمی انا شروع ہو جائیں گی۔ سیکرٹری صحت نے اس موقع پر اجلاس کو محکمہ صحت سے متعلق ایک تفصیلی بریفننگ دی۔