محکمہ معدنیات اور معدنی ترقی نے پچھلے سال کی نسبت اس سال اپنے ریونیو میں 51 فیصد کا اضافہ کر دیا ہے ۔ گزشتہ سال معدنیات رائیلٹی کی مد محکمے نے 2.10 ارب روپے کا ریونیو اکھٹا کیا تھا جبکہ اس سال 3.25 ارب روپے اکھٹے کئے جو صوبے میں قدرتی وسائل کے بہتر انتظام و انصرام اور غیر قانونی کان کنی کی روک تھام کے سلسلے میں محکمہ کی بہترکارکردگی کا واضح ثبوت ہے۔ یہ بات وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت منگل کے روز منعقدہ منرل انوسٹمنٹ فسلٹیشن اتھارٹی کے ایک اجلاس بتائی گئی ۔ اجلاس کو محکمے کی مجموعی کارکردگی، معدنی ذخائر کے بہتر استعمال کیلئے لائحہ عمل، غیر قانونی کان کنی کی روک تھام کیلئے اقدامات، درپیش مسائل، مختلف معدنیات کی رائیلٹی کے نرخوں کی موجودہ صورتحال اور دیگر مختلف اُمور پر تفصیلی بریفینگ دی گئی۔ اجلا س کو بتایا گیا کہ محکمے نے اگلے سال کیلئے 6 ارب روپے کا ریونیو اکٹھا کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے اور اس ہدف کے حصول کیلئے موثر اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں۔ اس موقع پر صوبے میں مختلف معدنیات کی رائیلٹی کے موجودہ نرخوںکا دوسرے صوبوں کے نرخوں کے ساتھ تقابلی جائزہ لیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ رائیلٹی کے موجودہ ان نرخوں کا ازسر نو جائزہ لے کر ان کو ریشنلائز کرنے کیلئے متعلقہ مجاز فورم اور صوبائی کابینہ کو سفارشات پیش کی جائیں ۔