حکومت خیبرپختونخوا نے ڈائریکٹوریٹ آف انٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کو جدید خطوط پر استوار کرنے، اسے موثر اورعصری تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کیلئے نیا قانون اور رولزبنانے اور اس کے انتظامی ڈھانچے کی تشکیل نو کے علاوہ اس کے شعبہ تفتیش کو مضبوط بنانے کیلئے مستقل بنیادوں پر مطلوبہ قابلیت اور معیار کا عملہ بھرتی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت انٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے منعقدہ ایک اجلاس میں کیا گیا ہے ۔صوبائی وزیر تعلیم اکبر ایوب، وزیر قانون سلطان محمد، وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات کامران بنگش، معاون خصوصی برائے انٹی کرپشن شفیع اﷲ خان اور سٹرٹیٹجک سپورٹ یونٹ کے سربراہ صاحبزادہ سعیدکے علاوہ سیکرٹری اسٹبلشمنٹ جمال الدین، سیکرٹری قانون مسعود خان، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری شہاب علی شاہ، ڈائریکٹر انٹی کرپشن عثمان خان کے علاوہ دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انسداد بدعنوانی اور سرکاری معاملات میں شفافیت اور میرٹ کی بالاد ستی اپنی حکومت کی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ کرپٹ عناصر پر کڑی نظر رکھنے کیلئے انٹی کرپشن اسٹبلشمنٹ کو مکمل بااختیار اور مضبوط بنایا جائے گا، کرپٹ عناصر کے خلاف گھیرا مزید تنگ کر دیا جائے گااوربد عنوانی کی کسی بھی سرگرمی میں ملوث عناصر کو نہیں چھوڑا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ انٹی کرپشن اسٹبلشمنٹ کے نئے قانون اور رولز میںکسی بھی قسم کی پلی بارگین کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے جبکہ شکایات اور انکوائریز کو بروقت نمٹانے کے لئے حقیقت پسندانہ ٹائم لائنز مقرر کی جائیں ۔انہوں نے مزید ہدایت کی کہ ایک مہینے کے اندر اندر انٹی کرپشن اسٹبلشمنٹ کیلئے نئے قانون اور رولز کے مسودے کی تیاری کے علاوہ ادارے کی انتظامی ڈھانچے کی تشکیل نو کیلئے لائحہ عمل تشکیل دیا جائے ۔ اجلاس کو انسداد بدعنوانی سے متعلق موجودہ قوانین ، قواعد و ضوابط ، انٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کی کارکردگی ، اصلاحات ، درپیش چیلنجز اور ان چیلنجز سے نمٹنے کے لئے تجاویز پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو ادارے کی کارکردگی کے حوالے سے بتایا گیا کہ ادارے کے تحت سال 2016میں روزانہ کی بنیاد پر اوسطاً پانچ شکایات نمٹائی جاتی تھیں جبکہ اس وقت روزانہ کی بنیاد پر اوسطاً بارہ شکایات نمٹائی جاتی ہیں۔