وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کورونا وبا کوکسی ایک صوبے یا علاقے کا نہیں بلکہ پورے ملک کا مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس مسئلے سے موثر اندازمیں نمٹنے کے لئے وفاقی اور تمام وفاقی اکائیوں کو اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور ایک یکساں اور متفقہ لائحہ عمل کے تحت اس وبا سے نمٹنے کےلئے اقدامات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اس وباءکے پھیلا کو کم سے کم کرنے اور اسے لوگوں کی جانوں کو محفوظ بنانے کے لئے اپنی استعداد سے بڑھ کر کام کر رہی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روزویڈیو لنک کے ذریعے وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت منعقدہ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر کے اجلاس میں شرکت کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس وبا کے خلاف ہمارے اقدامات کے مطلوبہ نتائج تب ہی حاصل ہو سکتے ہیں جب ہم سب اس حوالے سے ایک پیج پر ہو، اور اس سے نمٹنے کے لئے مربوط اقدامات کریں۔ محمود خان نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت اپنی استعداد سے بڑھ کر کورونا سے نمٹنے کے لئے اقدامات کر رہی ہے ۔ سمارٹ لاک ڈان کے تحت ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کروایا جارہا ہے اور کورونا کے مریضوں کو علاج معالجے کی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے سرکاری ہسپتالوں کے استعداد کارکو بڑھانے کے لئے ایک مربوط حکمت عملی کے تحت اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت نے کورونا ٹیسٹنگ کی مجموعی استعداد کار کو چالیس ٹیسٹ یومیہ سے بڑھا کر ساڑھے تین ہزار کردیا گیا ہے اور اس تعداد کو پانچ ہزار یومیہ تک بڑھانے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کئے جارہے ہیں۔ صوبائی سطح پرکورونا کی صورتحال کا جائزہ لینے اور اس سلسلے میں جملہ امور کی نگرانی کے لئے سول انتظامیہ اور پاک فوج کے اعلیٰ حکام پر مشتمل ٹاسک فورس تشکیل دی گئی ہے جس کے اجلاس باقاعدگی سے منعقد ہو رہے ہیں ۔ محمود خان نے کورونا کے مریضوں کے علاج معالجے کے سلسلے میں نجی ہسپتالوں کےطرف سے وصول کی جانے والی اخراجات کو عام آدمی کے برداشت سے باہر قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ نجی ہسپتالوں کے فیسوں کو ریگولیٹ کرنے کے لئے ملکی سطح پر اقدامات ناگزیر ہےں۔ وزیراعلیٰ نے موجودہ صورتحال میں نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کی قیادت میں یہ فورم جس انداز میں تمام صوبوں کو ساتھ لیکر آگے بڑھ رہا ہے وہ خوش آئند اور قابل تعریف ہے۔