خیبرپختونخوا کابینہ کا اجلاس وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت جمعرات کے روز سول سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا۔ ممبران کابینہ کے علاوہ چیف سیکرٹری اور انتظامی محکموں کے سیکرٹریز نے شرکت کی۔ اجلاس میں کورونا سے شہید ہونے والے تمام سکیل کے فرنٹ لائن ورکرز کے ورثاءکیلئے یکساں بنیادوں پر 70 لاکھ روپے پیکج کی منظوری دے دی گئی ۔ دیگر فیصلوں کے علاوہ کابینہ نے خیبرپختونخوا پاور ٹرانسمیشن اینڈ گرڈ سسٹم کمپنی کے قیام کی بھی منظوری دے دی جس کے تحت صوبائی حکومت بجلی کی ترسیل کیلئے اپنا گرڈ اور ٹرانسمیشن نظام قائم کر سکے گی۔
کابینہ کے فیصلوں کے بارے میں میڈیا کو تفصیلات بتاتے ہوئے وزیراعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات اجمل وزیر نے بتایا کہ کابینہ نے کورونا صورتحال کے پیش نظر عام تعطیل میں توسیع ، تمام ریسٹورنٹس اور فوڈ پوائنٹس ، سیاحتی مقامات ، بین الاضلاع اور شہروں کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کی تاحکم ثانی بند ش جبکہ جیلوں میں ملاقاتوں پر تاحکم ثانی پابندی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔کابینہ نے دودھ اور دہی کی دوکانوں کو شام 4 بجے کے بعد بھی کھلے رہنے کی اجازت دی ہے ۔ اس طرح کابینہ نے صارفین کو گوشت کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے مویشی منڈیوں کو کھولنے کی مشروط اجازت دیتے ہوئے اس فیصلے پر عمل درآمد سے قبل ایس او پیز تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
مشیر اطلاعات نے مزید بتایا کہ کابینہ نے خیبرپختونخوا ایپڈیمک کنٹرول اینڈ ایمرجنسی ریلیف آرڈیننس کی بھی منظوری دے دی ہے ۔ مذکورہ آرڈیننس کے تحت کورونا یا کسی بھی وباء کے مشتبہ اور مصدقہ مریضوں کو آئسولیشن یا قرنطینہ میں رکھنے ، وباءکی صورت میں اجتماعات پر پابندی ، صوبے کے اندر یا باہر سفر پر پابندی لگانے کے عمل سمیت دیگر ضروری اقدامات کو قانونی تحفظ فراہم کیا گیا ہے ، اسی طرح خاندان کے سربراہ، تعلیمی ادارے، پبلک ٹرانسپورٹ، ریسٹورنٹس، ہوٹلز وغیر ہ کے انچارج کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنے زیر کفالت اور ماتحت افراد کے وباءسے متاثر ہونے کی اطلاع دینے کے پابند ہوں گے اور ان کی خلاف ورزی کرنے پر قید اور جرمانے کی سزائیں بھی تجویز کی گئی ہیں ۔ آرڈیننس کے تحت وباءپھیلنے کی صورت میں عوام کو ریلیف دینے کیلئے اقدامات کو بھی قانونی تحفظ دیا گیا ہے ۔ ان ریلیف اقدامات کے تحت نجی تعلیمی ادارے چھ ہزار سے زائد ماہانہ فیس پر 20 فیصد جبکہ چھ ہزار سے کم ماہانہ فیسیوں پر 10 فیصد رعایت دیں گے ۔کوئی مالک اپنے کرایہ دار کو تین ماہ تک کرایہ کی عدم ادائیگی پر بے دخل نہیں کر سکے گا۔ ایمرجنسی جاری رہنے کی صورت میں اس تین ماہ کے عرصے میں بھی توسیع کی جائے گی۔