خیبرپختونخوا میں رمضان کے مہینے میں پہلے ہی لاک ڈاﺅن سے مستثنیٰ اشیائے ضروریہ کی دوکانوں اور کاروبار کیلئے اوقات کار مقرر کردیا گیا ہے جس کے مطابق اشیائے ضروریہ کی دُکانیں بشمول کریانہ اسٹور ، تندور، سبزی کی دُوکانیں، دودھ کی دُکانیں صبح سے لیکر شام 4 بجے تک کھلی رہیں گی جس کے بعد سب کچھ مکمل طور پر بند کردیا جائے گا۔ ریسٹورنٹس کو بھی صرف ہوم ڈیلیوری اور ٹیک آوے سروس کیلئے شام4 بجے تک کھلی رہیں گی ۔ اس فیصلے کا اطلاق میڈیکل اسٹور پر نہیں ہو گا۔یہ فیصلہ آج سے نافذ العمل ہو گا ۔ اس بات کا فیصلہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت جمعہ کے روز صوبائی ٹاسک فورس برائے انسداد کورونا کے ایک اجلاس میں کیا گیا۔صوبائی وزراء کے علاوہ کور کمانڈر پشاور، چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا اور آئی جی پی خیبرپختونخوا کے اور دیگر متعلقہ سول اور عسکری حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کے بارے میں پریس بریفینگ کرتے ہوئے صوبائی وزیر سلیم تیمور جھگڑا اور وزیراعلیٰ کے مشیر اجمل وزیر نے بتایا کہ اجلاس میں عوامی مقامات پر فیس ماسک کے استعمال کو لازمی قرار دینے پر غور و خوض کے بعد فیصلہ کیا گیا ۔ صوبائی وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا نے بتایا کہ ماسک پہننے کو لازمی قرار دینے کا فیصلہ اسلئے کیا گیا ہے کہ جن ممالک میں ماسک پہننا لازمی قراردیا گیا ہے وہاں وائرس کے پھیلاﺅ کی رفتار کم ہے ۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ اشیائے ضروریہ کی دوکانوں میں احتیاطی تدابیر اور سماجی فاصلوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کیلئے چیکنگ سخت کی جائے گی اور جن دوکانوں میں ان باتوں پر عمل درآمد نہیں ہورہا اُنہیں جرمانوں کی بجائے فوری طور پر سیل کر دیا جائے گا۔ اسی طرح رمضان کے دوران مساجد میں عبادات کی ادائیگی کیلئے قومی سطح پر علماءکی مشاورت سے طے شدہ ایس او پیز پر عمل درآمد کے حوالے سے فیصلہ کیا گیا کہ اس مقصد کیلئے مقامی علماءکے ساتھ مشترکہ لائحہ عمل کیلئے صوبائی، ڈویژنل اور ضلعی سطح پر کمیٹیاں بنائی جائیں گی اور جن مساجد میں احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد نہ ہو رہا ہو اُن مساجد میں نماز تراویح پڑھنے کی اجازت کو واپس لیا جائے گا۔