ماہر امراض اطفال ڈاکٹر عبداللہ نے کہا ہے کہ کورونا بیماری سے بچاؤ علاج سے زیادہ احتیاطی تدابیر سے ممکن ہے، لوگ ڈرنے کی بجائے اپنے آپ،اہل خانہ اوراپنے بچوں کو محفوظ رکھنے کے لئے ہجوم والی جگہوں پر جانے سے گریز کریں، موجودہ حالات میں بچوں اور ضعیف العمر افراد کو محفوظ رکھنے کے لئے ہاتھوں کی صفائی سمیت دیگر احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کو عادت بنایا جائے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پختونخواریڈیو سوات ایف ایم 98 کے سپیشل ٹرانسمیشن ”ریڈیو کلینک“ میں پروگرا م کے میزبان فضل خالق خان سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ چین کے لوگوں نے احتیاطی تدابیر پر عمل کرکے نہ صرف اس موذی وباء پر بروقت قابو پایا بلکہ دیگر ممالک کو بھی حتی الوسع محفوظ رکھنے میں مدد دی جبکہ ان کے مقابلے میں اٹلی کے لوگوں نے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جس کی وجہ سے چین کے مقابلے میں آدھے متاثرہ افراد کی تعداد ہونے کے باوجود ان کے ہاں اموات کی شرح زیادہ ہے، ڈاکٹر عبداللہ نے لائیو پروگرام میں لوگوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے ا نہیں موجود ہ حالات کی تناظر میں صحت کے حوالے سے مفید معلومات فراہم کئے اور کہا کہ ان حالات میں بچوں کو اور ضعیف العمر افراد کو موذی وباء سے محفوظ رکھنے کے لئے احتیاط کی اشد ضرورت ہے،بیرون ممالک سے آنے والے افراد کو خصوصی طورپر ہدایت دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ رضاکارانہ طورپر اپنی سکریننگ اور ٹیسٹ کرائیں تاکہ وہ خود اور ان کے پیارے موذی وباء سے محفوظ رہ سکیں،، لوگ ڈرنے کی بجائے اگر اپنے آپ کو گھروں تک محدودرکھیں اور تقریباًدوہفتے تک لوگوں سے الگ تھلگ رہیں اور ملتے وقت احتیاطی تدابیر پر عمل کریں تو موذی وائرس سے محفوظ رہ سکتے ہیں، انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگر لوگوں نے موجودہ حالات میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا تو اللہ نہ کرے ہمارے حالات بھی بدتر ہوسکتے ہیں اور پھر ان حالات میں ہمارے لئے حالات کا مقابلہ کرنا ممکن نہیں رہے گا۔