صوبائی وزیر ابتدائی و ثانوی تعلیم اکبر ایوب خان نے کہا ہے کہ تمام سرکاری اور پرائیویٹ اسکولز میں معذور بچوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے اور ان کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دینے کے لیے محکمہ تعلیم بھرپور اقدامات اٹھا رہی ہے اور اس زمرے میں کئی اہم دستاویزات محکمہ خزانہ کو ارسال کی جا چکی ہے تاکہ اگلے سال ترقیاتی پروگرام میں ان کو شامل کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے مسائل اور مطالبات کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام بڑے ڈویژنوں میں دور دراز کے علاقوں کے لوگوں کی سہولیات کے لیے بورڈز کے سب دفاتر کھولے جائیں گے تاکہ لوگوں کو تکالیف سے بچایا جاسکے اور ان کے تعلیمی مسائل ان کے دہلیز پر حل ہو سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ تعلیم کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں سیکرٹری ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ندیم اسلم چوہدری، تمام بورڈز کے چیئرمین، ڈائریکٹر پائٹ، ڈائریکٹر ای ایم یو، ڈائریکٹری پی ایس آر اے اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر تعلیم نے کہا کہ ہم بچوں کے تعلیم اور سہولیات کو مدنظر رکھتے ہوئے کئی اہم مراسلوں پر کام کر رہے ہیں جن کی تکمیل سے صوبے کے تمام بچوں بشمول نئے ضم شدہ اضلاع کے بچوں کو مالی طور پر مستحکم ہونگے اور انہیں تعلیم حاصل کرنے کے بہترین مواقع بھی میسر ہوں گے۔ اکبر ایوب خان نے پرائیویٹ سکولوں کی رجسٹریشن کے بارے میں بتایا کہ صوبائی پی آر ایس اے ادارہ ان کی رجسٹریشن کرے گا جبکہ ان کی الحاق بورڈ ہی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اور پرائیویٹ سکولوں کے الحاق فیسوں پر بھی نظرثانی کی جائے تاکہ مل جل کر معاملے کو حل کیا جاسکے کیونکہ سرکاری سکولوں کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ سکولز بھی ہمارے بچوں کو زیور تعلیم سے روشناس کرنے میں اپنا اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ صوبائی وزیر تعلیم نے کہا کہ امتحانی ہالوں میں نقل کی روک تھام کے لیے بہتر حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے جس کے لیے امتحانی ہالوں میں کیمروں کی تنصیب کی جارہی ہے تاکہ تعلیم کے میدان میں میرٹ اور شفافیت کو پروان چڑھایا جاسکے اور حقدار بچوں کو ان کا حق مل سکے۔