خیبر پختونخو کابینہ کی ذیلی کمیٹی برائے قانون کی حکمرانی کی پہلی میٹنگ کا انعقاد وزیر قانون و پارلیمانی امور اور انسانی حقوق سلطان محمد خان کی زیر صدارت جمعہ کے روز سول سیکرٹریٹ پشاورمیں ہوا جس میں متفقہ طور پر قانونی اصلاحات کی ترجیحات سے متعلق سفارشات پیش کرنے کی منظوری دی گئی۔ ان سفارشات میں سنگین جرائم میں بریت میں ہونے والے اضافے میں کمی لانا، مقدمات کو نمٹانے میں تاخیر کو ختم کرنا اور زیر سماعت مقدمات کے قیدیوں کی تعداد میں کمی لانا شامل ہیں۔ اجلاس میں صوبائی وزیر خوراک قلندر خان لودھی،ایڈیشنل چیف سیکرٹری پی اینڈ ڈی شکیل قادر،سیکرٹری محکمہ داخلہ اکرام اللہ خان،سیکرٹری محکمہ قانون مسعود احمد،ائی جی پولیس ثناء اللہ عباسی کے علاؤہ دیگر متعلقہ متعلقہ افسران سمیت جسٹس سسٹم سپورٹ پروگرام کے نمائندوں نے بھی شرکت کی اوراجلاس کو قانون کی حکمرانی بارے تفصیلی بریفننگ دی گئی وزیر قانون نے کہا کہ قانون کی حکمرانی کے لئے تیار کئے گئے روڈمیپ اور اس میں متعین کردہ ترجیحات کا بنیادی مقصد شہریوں کے قانونی اداروں پر اعتماد میں اضافہ کرنا ہے جو واضح طور پر وزیرِاعظم صاحب کے ویڑن کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روڈمیپ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کاری اور ان کو درپیش رکاوٹوں کے حل کے لئے ممکنہ اقدامات کے لئے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔انہوں نے وزیرِاعلٰی اور صوبائی حکومت کی ترجمانی کرتے ہوئے ہرممکنہ معاونت کا یقین دلایا جس کے تحت روڈمیپ کے اطلاق کو بطریقِ احسن کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جن مسائل کی نشاندہی ہوئی ہے انہیں متعلقہ اداروں کی جانب سے ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا چاہے اور یہ کہ اس کمیٹی کی اگلی نشست میں ان مسائل کے حل کی طرف پیش رفت کی جائے گی۔