اسلام آباد اقوام متحدہ ترقیاتی ادارہ (یو این ڈی پی) اور ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ خیبرپختونخواہ نے اورکزئی اور کرم کے اضلاع میں بچیوں کی معیاری تعلیم تک رسائی بہتر بنانے کے لئے مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کئے ہیں۔ اس سلسلے میں پراجیکٹ کی افتتاحی تقریب پشاور میں منعقد ہوئی۔ گلوبل افیئرز کینیڈا کے مالی تعاون سے 7 ملین کینیڈین ڈالر کے اس پراجیکٹ پر یو این ڈی پی، اقوام متحدہ عالمی فنڈ برائے اطفال (یونیسیف) اور ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ خیبرپختونخواہ مل کر کام کریں گے۔ یہ تین سالہ پراجیکٹ ضم شدہ اضلاع کے لئے حکومت کے ‘ایکسیلریٹڈ امپلی منٹیشن پلان’ (اے آئی پی) کو تقویت دیتا ہے اور اس کے تحت تین سطحوں پر محکمہ تعلیم، کمیونٹی اور طلبہ کو معاونت فراہم کی جائے گی جس کے ذریعے چودہ ہزار کے لگ بھگ طالبات کے لئے محفوظ اور معیاری تعلیم تک مساویانہ رسائی یقینی بنائی جائے گی اور اس میں نوعمر بچیوں پر زیادہ توجہ دی جائے گی۔ پراجیکٹ کے تحت 100 جزوی طور پر تباہ شدہ سکولوں کو بحال کیا جائے گا اور بچوں کے لئے سازگار تدریسی ماحول کو فروغ دینے کے لئے ضروری سازوسامان اور فرنیچر مہیا کیا جائے گا۔

پاکستان میں یونیسیف کی ریپریزنٹیٹو محترمہ آئدہ گرما نے اپنی تقریر میں کہا کہ پاکستان کے ہر لڑکے اور لڑکی کو معیاری تعلیم کا حق حاصل ہے جس کی شروعات انتہائی محروم طبقات سے ہوتی ہے۔ گلوبل افیئرز کینیڈا کی مدد سے حکومت کی زیرقیادت یہ پراجیکٹ نوعمر لڑکیوں اور لڑکوں کو روزمرہ زندگی میں تعلیم، مہارتوں اور بااختیار معاشی حیثیت کی راہ میں حائل رکاوٹوں پر قابو پانے میں مدد دے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم سب مل کر کام کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ نوعمر لڑکیاں تعلیم حاصل کر سکیں۔ سکولوں میں لڑکیوں کے داخلے سے ان کے لئے زندگی بھر کے مواقع پیدا کرنے اور نئے ضم شدہ اضلاع میں غربت کے چکر کو توڑنے میں مددملے گی۔