وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت نے ضم شدہ قبائلی اضلاع کی تیز تر اور دیرپا ترقی کو یقینی بنانے کیلئے صوبے کی تاریخ میں پہلی بار قبائلی اضلاع کیلئے 83 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ منظور کیا ہے جس کا استعمال اسی سال یقینی بنایا جائے گا۔ قبائلی ضلع خیبر میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے 7ارب روپے کی لاگت سے باڑ ہ سے مستک روڈ کو دورویہ کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ صوبے میں گورننس پر تنقید کرنے والوں پر واضح کرنا چاہتاہوں کہ قبائلی اضلاع کا انضمام پانچ سالہ ہدف تھا جسے موجودہ حکومت نے ایک سال کے قلیل عرصے میں مکمل کر لیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے عدالتوں اور تمام صوبائی محکموں کی توسیع قبائلی اضلاع تک ممکن بنائی ہے جبکہ 29ہزار خاصہ دار اور پولیس فورس کو پولیس میں انضمام کیساتھ ساتھ قبائلی عوام کو مفت صحت سہولیات کی فراہمی اور نوجوانوں کو بلاسود قرضوں کی فراہمی بھی یقینی بنائی ہے ۔ ان میگا منصوبوں کے علاوہ سینکڑو ں ترقیاتی منصوبے رواں سال اے ڈی پی میں شامل کئے گئے ہیں جس سے قبائلی اضلاع کی تقدیر بدل جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ گزشتہ دورہ خیبر میں 7ارب روپے کی لاگت سے تختہ بیگ سے متنی بائی پاس سڑک کو دو رویہ کرنے کا اعلان کیا گیا تھا جس سے قبائلی ضلع اورکزئی اور پاڑہ چنار کے عوام کو براستہ باڑہ پشاور آنے کے لئے سفری سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ قبائلی ضلع خیبرمیں دہشت گردی سے متاثرہ سکولوں کی بحالی کیلئے 1.7 ارب روپے کے منصوبہ کے تحت 126سکولوں میں سے 19 سکولوں کی بحالی کی گئی ہے جبکہ باڑہ میں مزید 50 متاثرہ سکولوں کی بحالی و تعمیرکا کام اگلے ماہ سے شروع کیا جائے گا۔وزیراعلیٰ نے ضلع خیبر میں تمام معطل خاصہ دار فور س کی بحالی کا بھی اعلان کیا اور کہا کہ وادی تیراہ میں بہت جلد ترقیاتی منصوبوں پر کام شروع کیا جائے گاجبکہ اقلیتی برادری کیلئے بنائی گئی کرسچن کالونی لنڈی کو تل کا بھی بہت جلد افتتاح ممکن بنایا جائے گا۔