وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے ضلع کرک کا مصروف ترین دورہ کیا جہاں انھوں نے متعدد ترقیاتی منصوبوں کے افتتاح کے ساتھ ساتھ ضلع کرک کے بنیادی مسائل کے حل کے لیے کئی منصوبوں کا اعلان بھی کیا۔ ضلع کرک میں گیس منصوبے کی توسیع اور بحالی کا افتتاح کیا گیا جس پر پہلے فیز میں 1944.990 ملین روپے لاگت ائے گی جبکہ منصوبے کی کل لاگت 9 ارب روپے ہے جس میں 65 کلومیٹر پائپ لائن کی بحالی بھی عمل میں لائی جائے گی۔ گیس منصوبے کی توسیع اور بحالی سے ایک لاکھ 15 ہزار افراد مستفید ہونگے جبکہ کرک کے عوام کو ریسکیو کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے ضلع کرک میں ریسکیو 1122 کے دو سٹیشنز کا افتتاح بھیکیا گیا جو کرک سٹی اور تحصیل بانڈہ داﺅد شاہ میں قائم کی گئی ہیں۔ اس موقع پر وزیر اعلی محمود خان نے واضح کیا کہ موجود حکومت حقیقی معنوں میں صوبے کی تیز تر ترقی کے لیے دن رات محنت کر رہی ہے جبکہ پسماندہ علاقوں کی ترقی کے بغیر صوبے کی مجموعی ترقی ممکن نہیں ہو سکتی ۔ انہوں نے کہا کہ کرکے کے عوام کو ریسکیو سہولیات کی فراہمی کا باقاعدہ آغاز کیا جا رہا ہے جس کے لئے 26 کروڑ 44 لاکھ روپے فراہم کئے گئے ہیں۔ ابتدائی طور پر 2 لاکھ افراد ریسکیو سروس سے مستفید ہوں گے۔ وزیر اعلیٰ نے ضلع کرک کے بنیادی مسئلہ جوکہ پینے کے صاف پانی کی عدم موجودگی ہے، کے حل کے لیے انفلٹریشن گیلریز، سمپ ویل اور سپلائی پائپ لائنز تعمیر کے منصوبے کا بھی افتتاح کیا جو 3 کروڑ روپے کی لاگت سے 6 ماہ میں مکمل ہونے کے بعد 15 ہزار آبادی کو پینے کا صاف پانی فراہم کرے گی۔منصوبے سے روزانہ کی بنیاد پر زرکی نصرتی ، سراج خیل ، تخت نصرتی ، چوکاڑہ اور کھڈا بانڈہ کو 250000 گیلن پانی فراہم کیا جا سکے گا۔ ضلع کرک میں تعلیمی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور معیاری تعلیم کی فراہمی کے لیے 7 ہائیر سیکنڈری سکولوں کی سٹینڈرڈائزیشن کا افتتاح بھی کیا گیا جس کےلئے 40 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔سڑکوں کی تعمیر و بحالی کے منصوبے کا افتتاح بھی کیا جس میں 250 ملین روپے لاگت سے تقریباً 22 کلومیٹر سڑکوں کی تعمیر اور بحالی عمل میں لائی جائے گی۔