خیبر پختونخوا کے وزیر قانون و پارلیمانی امور وانسانی حقوق سلطان محمد خان کی زیرصدارت جمعرات کے روز منشیات ایکٹ اور ضابطہ دیوانی کیسز میں ترامیم کے حوالے سے وکلاءکے تحفظات کے متعلق حکومتی کمیٹی اور وکلاءکی نو روکنی کمیٹی کے دوسرے اجلاس کا انعقاد ایڈوکیٹ جنرل خیبر پختونخوا کے دفتر پشاور میں کیا گیا اجلاس کے دوران وکلاءنے اپنی تجاویز تحریری شکل میں پیش کیں اور اصلاحات کے بارے میں تفصیلی بحث بھی ہوئی۔ اس موقع پر وزیر قانون نے اجلاس کو بتایا کہ مقدمہ گزاروں کو سستہ اور فوری انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا صوبائی حکومت کی پالیسی ہے اور اس پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو گا ۔انہوں نے مزید کہا کہ فرسودہ نظام سے جان چھڑانے کے لئے ہم سب کواجتماعی کوشش کرنی چاہیے۔حکومتی کمیٹی اور وزیر قانون نے وکلاءکو مقدمہ گزاروں کی خاطر ہڑتال ختم کرنے کی درخواست کی اور ان کو یقین دلایا کہ تمام مساہل باہمی افہام و تفہیم سے حل کریں گے۔ اجلاس میں محکمہ قانون کے سیکرٹری مسعود احمد، ایڈوکیٹ جنرل شمائل بٹ اور وکلاءکے نمائندہ کمیٹی کے نمائندگان اور دیگر افسران نے بھی شرکت کی۔ اس حوالے سے حتمی اجلاس عنقریب دوبارہ ہوگا۔ واضح رہے کہ مذکورہ قوانین میں اصلاحات لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق تیار ہوئی ہیں جو دیگر صوبوں میں نافذالعمل ہیں۔