خیبر پختونخوا کے وزیر زراعت و لائیوسٹاک محب اللہ خان نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایسی قانون سازی کریں جس کی بدولت قابل کاشت اور زرعی زمینوں کو غیر قانونی ہاو¿سنگ سوسائٹیوں اور آبادیوں کی نذر ہونے سے محفوظ ہو۔
یہ ہدایات انہوں نے بدھ کے روز سول سیکرٹریٹ پشاور میں سالانہ ترقیاتی پروگرام کے منصوبوں پر پیش رفت کے حوالے سے منعقدہ جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دی۔اجلاس میں ایڈیشنل سیکرٹری زراعت و لائیوسٹاک کبیر خان آفریدی،زراعت و لائیوسٹاک کی ڈی جیز ڈاکٹر شیر محمد،رحمت الدین،جاویداقبال،خسرو کلیم،ڈاکٹر عبدالروف،یاسین خان،سی پی او زراعت مرتضی شاہ، ڈائریکٹرزمحمود جان بابراورسمیع اللہ خان، کوآپریٹیو رجسٹرار اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔اس موقع پر زرا عت و لائیوسٹاک کے مختلف منصوبوں پرکام کی رفتار ،فنڈز کے استعمال اور دیگر امور کا تفصیلی طور پر جائزہ لیا گیا اورصوبائی وزیر نے محکمہ امداد باہمی کو اثاثہ جات کی تفصیل فراہم کرنے ،شعبہ زراعت کو زمینداروں کی تربیت کے لیے اقدامات اٹھانے، غیر فعال کوآپریٹیو سوسائٹیوں کو فعال بنانے اور مویشی پال لوگوں کو سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی۔اجلاس کے دوران بریفنگ میں بتایا گیا کہ خیبر پختونخوا میں 2 کروڑ 6 لاکھ 46 ہزار ایکڑ زمین میں سے تقریبا 46 لاکھ 27 ہزار آراضی زیر کاشت جبکہ ایک کروڑ 60 لاکھ 18ہزار ایکڑ زمین بغیر کاشت کے ہے۔صوبائی وزیر نے بریفنگ میں گہری دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ زرعی زمین میں اضافہ کرنے اور پیداوار بڑھانے کے لیے جدید خطوط کے تحت جامع منصوبہ بندی تیار کریں تاکہ صوبے کے عوام اس مد میں خوشحالی سے ہمکنار ہوں۔