قدیمی روایات کا آمین وادی کیلاش میں جاری چاوموس فیسٹیول میں مختلف رسومات کی ادائیگی کا سلسلہ جاری، گزشتہ روز شیشاؤ (صفائی) کی رسم ادا کی گئی جس میں کیلاش وادی کی خواتین نے حصہ لیاجبکہ بعد میں جانوروں کی قربانی کی گئی، اس دوران کیلاش وادی کی خواتین پردے کا اہتمام کرتی ہیں جبکہ دیگر مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد کو کیلاشی وادیوں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوتی، 7دسمبر سے جاری چاوموس فیسٹیول میں مختلف رسمیں ادا کی گئیں جبکہ فیسٹیول کی اختتامی تقریب 22دسمبر کو منعقد ہو گی، فیسٹیول کے دوران ٹورازم پولیس نے بھی اپنی خدمات پیش کی، سیاحوں کی مشکلات کے ازالے اور ان کو کسی بھی قسم کی تکلیف سے بچانے کیلئے ٹورازم پولیس اور ان کی ٹیمیں مسلسل گشت کرنے میں مصروف ہیں، کیلاش قبیلے کا تاریخی اور ثقافتی چاوموس تہواردنیا بھر میں اپنی نوعیت کا منفرد تہوار ہے،چاوموس فیسٹیول میں ہرسال کی طرح امسال بھی کثیر تعداد میں ملکی و غیر ملکی سیاح کیلاش قبیلے پہنچ چکے ہیں،چاوموس فیسٹیول میں منائے جانے والے تہواروں میں منڈاہیک، شارا بیرایک، ساوی لیک، چوئی ناری اور دیگر رسمیں بھی شامل ہے،شارابیرایک رسم میں کیلاشی اپنے گھروں میں آٹے سے مختلف اشیاء جس میں مارخور، چرواہے، گائے، اپنے بزرگوں کی نشانیاں اور دیگر مختلف چیزیں بناتے ہیں جس کو آگ میں پکانے کے بعد دھوپ میں رکھا جاتا ہے اور تیار ہوجانے کے بعد اس کو اپنے ہمسایوں میں تحفہ کے طور پر تقسیم کرتے ہیں، جس کا مقصد خوشحالی، سالگرہ اور چاوموس فیسٹیول کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے، اس دوران یہ اپنے رسمی گانے، نغمے گنگنا کر خوشی کا اظہار کرتے ہیں جبکہ منڈاہیک رسم میں کیلاشی قبیلے کے افراد ہاتھوں میں پائن درخت کی لکڑی میں آگ جلا کر پانچ منٹ کی خاموشی اختیار کرتے ہیں جو کے ان کے وفات پا جانے والے عزیزو اقارب کی یاد میں ہوتی ہیں، ان کے مطابق یہ روشنی قبرستان میں نہیں کرتے جبکہ کمیونٹی ہال میں کرتے ہیں اور یہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ان کے وفات پا جانے والے رشتہ داراس روز ان کے خاندان اوران سے ملنے آتے ہیں،اس فیسٹیول میں بون فائر کی رسم بھی منائی جاتی ہے،اس تہوار میں قبیلے کے بچے اور بچیاں مقدس مقام پر جمع ہوتے ہیں اور پائن درختوں کی شاخیں اور لکڑیاں جمع کرتے ہیں جس کے بعد ان کے مابین بلند دھواں کرنے کے مقابلے ہوتے ہیں۔