وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں ترقیاتی سکیموں کے لئے جاری وسائل کی نتیجہ خیز اور تیز رفتار یوٹیلائزیشن یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے، تاکہ قبائلی عوام کو جلد ریلیف دیا جاسکے اور ترقیاتی پلان تیزی کے ساتھ مکمل ہو سکے ۔ انہوں نے اس سلسلے میں تمام صوبائی محکموں کو تحریری تنبیہہ جاری کرنے کی ہدایت کی ، اور واضح کیا کہ تمام محکمے مقررہ ٹائم لائنز کے اندر اپنے اہداف مکمل کرنے کے پابند ہےں، وقت ضائع کرنے کی قطعاً گنجائش موجود نہیں ، واضح پیش رفت نظر آنی چاہیئے ، پندرہ دنوں کے بعد اگلے اجلاس میں وسائل کے استعمال اور سکیموں پر عملدرآمد کی مکمل تفصیلات پیش کی جائےں۔ انہوں نے خصوصی طور پر شعبہ صحت اور تعلیم کے حوالے سے علیحدہ اجلاس کی ہدایت کی ، اور واضح کیا کہ زمینی حقائق کے عین مطابق پیش رفت سے آگاہ کیا جائے اور ضم شدہ اضلاع میں ہسپتالوں اور سکولوں میں اساتذہ اور ڈاکٹرز کی فراہمی ہنگامی بنیادوں پر یقینی بنائی جائے ۔ وہ وزیراعلیٰ ہاو¿س پشاور میں ضم شدہ اضلاع کی ترقیاتی سکیموں کے حوالے سے ایک اہم اجلاس کی صدارت کر رہے تھے ۔ وزیراعلیٰ کو ضم شدہ اضلاع کے لئے تیز رفتار عملدرآمد پروگرام (اے آئی پی)، فوری اثرات کے حامل منصوبوں(کیو آئی پی) اور سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی ) پر پیش رفت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔ اجلاس کو تیز رفتار عملدرآمد پروگرام کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے آگاہ کیا گیا کہ یہ تین سالہ پلان ہے جو بنیادی طور پر دس سالہ ترقیاتی حکمت عملی کے تحت بنایا گیاہے ۔10 سالہ ترقیاتی حکمت عملی کے تحت ضم شدہ اضلاع میں دس سالوں میں مجموعی طور پر ایک ہزار ارب روپے خرچ کئے جائیں گے ۔