وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ ڈی آئی خان کے جن علاقوں کو زرعی زمین کی ترقی کیلئے پانی کی ضرورت ہے وہاں پر واٹر کورسز بنائے جائیںگے اور ڈی آئی خان میں انڈسٹریل زونز کو ویلنگ کے ذریعے بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی ۔اُنہوںنے سی آر بی سی لفٹ کینال منصوبے پر کام جلد ازجلد شروع کرنے کی بھی ہدایت کی ہے جو کہ محکمہ زراعت اور محکمہ آبپاشی مل کر ممکن بنائیں گے ۔ اس منصوبے کی تکمیل سے تقریباتین لاکھ ایکڑ زرعی زمین کو سیراب کرنے میں مدد ملے گی ۔ پشاور سے ڈی آئی خان ایکسپریس وے کی تکمیل سے ڈی آئی خان میں تجارتی اور معاشی سرگرمیوں کو مزید فروغ ملے گا۔ گومل زام ڈیم کے پراجیکٹس کی تکمیل سے دیہی علاقوں کو بھی پانی کی فراہمی ممکن ہو سکے گی ۔ ان خیالات کا اظہار وزیراعلیٰ نے ڈی آئی خان سے وفاقی وزیر برائے اُمور کشمیر علی امین گنڈا پور کی قیادت میں آئے ہوئے ایک وفدکے ساتھ اجلاس کے دوران کیا ہے ۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ کے مشیر برائے ضم شدہ اضلاع اجمل وزیر، ڈی آئی خان سے اراکین صوبائی اسمبلی ، متعلقہ محکموں کے سیکرٹریز و دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی ۔ اجلاس کو ڈی آئی خان میں ایگری کلچر فیکلٹی کی ایگری کلچر یونیورسٹی تک اپ گریڈیشن ، ڈی آئی خان میں ماہی پروری کیلئے نرسریاں ، واٹر کورسز ، سی آر بی سی لفٹ کینال منصوبہ ، روڈ انفراسٹرکچر کی بحالی ، پینے کے صاف پانی کے مسائل ، زرعی زمینوں کو پانی کی فراہمی ، نکاسی آب کے مسائل ، صحت ، تعلیم و دیگر اہم اُمور پر تفصیلی بریفینگ دی گئی ۔وزیراعلیٰ نے ڈپٹی کمشنر ڈی آئی خان اور لوکل گورنمنٹ کے حکام کو ڈی آئی خان میں نکاسی آب کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعلیٰ نے ضلع ٹانک میں پینے کے صاف پانی کے مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ اس مقصد کیلئے سکیموں کا تعین کیا جا چکا ہے۔انہوںنے کہاکہ ضلع ٹانک میں روڈ انفراسٹرکچر کی بحالی بھی جلد ممکن بنائی جائے گی ۔ اُنہوں نے ڈپٹی کمشنر ٹانک کو ہدایت کی کہ وہ متعلقہ عوامی نمائندوں کی مشاورت سے ضلع ٹانک کی چھوٹی بڑی ترقیاتی سکیموں پر عمل درآمد یقینی بنائیں۔ اس موقع پر اجلاس کو سی آر بی سی لفٹ کینال منصوبے پر پیش رفت اور گومل زام ڈیم کے دیگر منصوبوں کی افادیت سے آگاہ کیا گیا۔