انسانی حقوق کی فراہمی کے بارے میں قانون سازی اور اس پر عمل درآمد کو یقینی بنانے میں پاکستان تحریک انصاف کی وفاقی اور صوبائی حکومتیں سنجیدگی سے کاوشیں کر رہی ہیں اور اس حوالے سے کوئی دو رائے نہیں رکھتیں۔ ان خیالات کا اظہار بدھ کے روز پشاور میں صوبائی وزیر قانون و پارلیمانی امور اور انسانی حقوق سلطان محمد خان نے انسانی حقوق کے متعلق ایکشن پلان کے بارے میں مشاورتی ورکشاپ کی تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد ڈیماکریسی ریپورٹنگ نیشنل ادارے نے صوبائی محکمہ قانون اور انسانی حقوق کے تعاون سے کیا تھا تقریب میں اراکین صوبائی اسمبلی آسیہ خٹک،مدیحہ نثار، سیکرٹری قانون اور انسانی حقوق مسعود احمد، ڈائریکٹر جنرل، ہیومن رائٹس کے علاوہ متعلقہ سرکاری اور نجی اداروں کے عہدیداران نے بھی شرکت کی۔ وزیر قانون نے اپنے خطاب میں کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں پوری سنجیدگی سے قانون سازی اور اس پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہیں اور یہ کہ حکومت کی اخلاقی اور قانونی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیراعظم عمران خان کا وژن معاشرے کے کمزور طبقے کو اس کے بنیادی حقوق کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے وزیر موصوف نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت ویمن پراپرٹی رائٹس ایکٹ منظور کرچکی ہے اور خاتون محتسب کو بااختیار بھی بنا دیا ہے کہ وہ اس ایکٹ پر عملدرآمد اور اس بارے آگاہی معاشرے میں یقینی بنائے وزیر موصوف نے کہا گھریلو تشدد بل بھی عنقریب صوبائی اسمبلی سے منظور ہو جائے گا۔ سلطان محمد خان نے مزید کہا کہ ڈائریکٹر جنرل ہیومن رائٹس میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے متعلق شکایات درج کرنے کے لیے فری ہیلپ لائن بھی قائم کی گئی ہے جس سے معاشرے کے کمزور طبقے کو اپنی شکایات درج کرانے کے لئے آسانی سے رسائی کو یقینی بنایا گیا ہے سلطان محمد خان نے مزید کہا کہ اس طرح کے دیگر قوانین بھی زیر بحث ہیں جن کو انشاء اللہ بہت جلد قانون کا حصہ بنائیں گے مشاورتی ورکشاپ میں اس حوالے سے سیکر ٹری قانون و انسانی حقوق مسعود احمد سمیت دیگر ماہرین نے بھی اپنی تجاویز پیش کیں۔