وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت صوبے میں سرمایہ کاری کے لئے سازگار ماحول فراہم کرنے کےلئے بھرپور اقدامات اٹھارہی ہے، جبکہ روڈز اور دیگر انفراسٹرکچر کی مزید بہتری کیلئے بڑے منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے ۔انہوںنے کہاکہ شعبہ توانائی ، انفارمیشن ٹیکنالوجی ، چھوٹے بڑے ہائیڈل پراجیکٹ ، مائنز اینڈ منرلز ، سیاحت ، زراعت ، لائیو سٹاک اور دیگر چھوٹے صنعتی شعبوں میں سرمایہ کاری کیلئے صوبے میں کاروبار دوست ماحول بنانے جارہے ہیں جس سے نہ صرف صوبے کے بلکہ چائنز و دیگر سرمایہ کار بھی استفادہ کر سکیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ پشاور سے ڈی آئی خان ایکسپریس وے، سوات ایکسپریس وے و دیگر جیسے بڑے اور اہم منصوبوں کی تکمیل سے صوبے میں سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ چائنیز اور پاکستانی سرمایہ کار صوبے میں سرمایہ کاری کریں جبکہ صوبائی حکومت ان کے لئے تمام تر ریلیف اور سہولیات فراہم کرنے اور ہر قسم کی تعاون کے لئے تیار ہے ۔ صوبے میں انڈسٹریز پالیسیز کو سرمایہ کاروں کے لئے آسان بنا رہے ہیں ۔ سی پیک کے ذریعے خیبرپختونخوا میں روزگار کے مزید مواقع میسر آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے تناظر میں خیبرپختونخوا کے قدرتی وسائل اور سیاحتی مقامات کو سر مایہ کاروں کے لئے کھولا جارہاہے جبکہ سرمایہ کاروں کو کاروبار دوست ماحول فراہم کرنے کے لئے عملی اقدامات جاری ہیں۔خیبرپختونخوا کو تجارتی سرگرمیوں کا مرکز بنانے کے لئے صوبائی حکومت تمام تر ممکنہ اقدامات کر رہی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعلیٰ ہاوس پشاور میں چائینز اور خیبر پختونخوا سرمایا کاروں کے وفودکے لئے منعقدہ تقریب سے خطاب کے دوران کیا ہے۔ اس موقع پر سینئر صوبائی وزیر برائے سیاحت عاطف خان، وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا، وزیر معدنیات ڈاکٹر امجد علی خان، وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے صنعت عبدالکریم تورغر، وزیراعلیٰ کے مشیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کامران بنگش، مشیر برائے ایلمنٹری اینڈ سیکنڈری تعلیم ضیاءاللہ بنگش، ایم پی اے و ڈیڈک چیئرمین سوات فضل حکیم خان، پرنسپل سیکرٹری بر ائے وزیر اعلیٰ شہاب علی شاہ ، صدر پاکستان چائنا فرینڈ شپ ایسوسی ایشن شاہ ذکان ، مسٹر وانگ ودیگر نے شرکت کی۔قبل ازیں خیبر پختو نخوا بورڈ آف انویسٹمنٹ ، خیبر پختونخوا اور چاینئز سرمایا کاروں کے درمیان صوبے میں بزنس ٹو بزنس کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال بھی ہوا۔یاد رہے کہ تقریب میں 45 چائنز سرمایہ کاروں کے وفد نے شرکت کی ۔ تقریب سے اپنے خطاب میں وزیراعلیٰ نے دوست اور پڑوسی ملک چین کی ایمبیسی کے معزز سٹاف اوروفد کے دیگر اراکین کو پشاور آمد پر خوش آمدیدکہا ہے اور ان کا شکریہ بھی اداکیا ۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ آج مختلف اہم شعبوں کے ماہرین اور حکام کو یہاں اکٹھا دیکھ کر بہت خوشی محسوس کر رہا ہوں۔ اُنہوں نے اُمید ظاہر کی کہ بزنس ٹو بزنس تبادلہ خیال سے خیبرپختونخوا میں دیر پا سرمایہ کاری نتیجہ خیز ثابت ہوگی۔خیبرپختونخوااور سِلک روڈایک طویل تاریخی پسِ منظر اور اہمیت کے حامل ہےں۔ چین اور وسطی ایشیا ءروم جانے کے لئے پشاور کو بطور روٹ استعمال کرتے رہے ہیں، جو اس خطے خصوصاً پشاور کی جغرافیائی اور تجارتی اہمیت کو اُجاگر کرتی ہے ۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ سوکھی کناری ہائیڈل پراجیکٹ ، رشکئی اسپیشل اکنامک زون ، حویلیاں سے تھاکوٹ ہائی وے ، سوات موٹر وے ، پشاور سے ڈیر ہ اسماعیل خان ایکسپریس وے اور حویلیاں ڈرائی پورٹ کے منصوبوں کی تکمیل سے خیبرپختونخوا میں سرمایہ کاری اور صنعت کاری کے مزید مواقع پیدا ہوں گے ، اور مجموعی طور پر خوشحالی و ترقی کی راہ ہموار ہوگی۔انہوںنے اپنے خطاب میں کہا کہ ایکو ٹووارزم اور ماحول دوست صنعت کاری کا فروغ ہماری ترجیح ہے اور اس مقصد کے لئے مناسب ترین ماحول وضع کیا جارہا ہے ۔اُنہوںنے واضح کیا کہ خیبرپختونخوا سرمایہ کاری کے لئے کُھلا ہے اور یقین دلاتا ہوں کہ صوبائی حکومت صوبے میں تجارت اور صنعت کو آسان ترین بنانے کے لئے مجموعی نظام کو بہتر کر رہی ہے ۔ شعبہ انفارمیشن ٹیکنالوجی ، پن بجلی ، مائینز اور منرلز ، سیاحت ، زراعت ، لائیوسٹاک اور دیگر شعبوں میں چین سے آنے والی سرمایہ کاری کے لئے پرکشش ماحول پیدا کیا جارہا ہے۔اُنہوں نے کہاکہ مجھے یقین ہے کہ رشکئی اور دیگر اسپیشل اکنامک زونز کی ترقی کے ذریعے ہم ایک مناسب ترین ماحول پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے جس میں بزنس ٹو بزنس روابط اور جوائنٹ ونچرز کے مزید مواقع میسر آئیں گے۔ وزیراعلیٰ نے پاکستان اور چین دونوں کی بزنس کمیونٹی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ آگے آئیںاور خیبرپختونخوا میں سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اُٹھائےں۔ ہم نے صوبے میں صنعت کاروں اور سرمایہ کاروں کو سہولیات مہیا کرنے کے لئے کاروبار دوست پالیسیاں وضع کی ہےں اور ان پالیسیوں کو مزید بہتر اور مو¿ثر بنایا جارہا ہے ۔وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ ہمارا مقصد صوبے کے قدرتی وسائل کی دیر پا ترقی کے لئے صنعتکاری کی حوصلہ افزائی کرنا ہے ۔ تیز ترمعاشی ترقی کے لئے ہم موجودہ مائیننگ اور زراعت کے شعبے میں ویلیو ایڈیشن چاہتے ہےں، تاکہ صوبے کی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہو سکے ۔ اس مجموعی عمل میں اس طرح کی تقاریب اور رابطے خصوصی اہمیت کے حامل ہےں۔تقریب سے صدر پاکستان چائنا فرینڈ شپ ایسوسی ایشن شاہ ذکان نے بھی خطاب کیا ۔بعدازاں وزیراعلیٰ اور چین کے نمائندہ سرمایہ کاروں کے وفد کے درمیان شیلڈ اور تحائف کا تبادلہ بھی ہوا۔