نیشنلائزیشن کے تحت ایڈورڈز کالج کی پراپرٹی کو کہیں منتقل نہیں کیاجارہاہے، اس کالج کی پراپرٹی عیسائی برادری کی ہے اور ان ہی کی رہے گی۔. ایڈورڈز کالج کی تعلیمی شعبے میں خدمات قابل تحسین ہیں لیکن بدقسمتی سے ایڈورڈزکالج جیسے تاریخی تعلیمی ادارے کی ساکھ اور تاریخی حیثیت کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی گئی اور عالمی سطح پر مذکورہ کالج کے مسئلہ پر سوشل میڈیا پرگمراہ کن پروپیگنڈاشروع کیا جس سے عالمی سطح پر ملک کے تشخص کو خراب کرنے کی بھی سازش کی گئی۔ ایڈورڈز کالج کے موجودہ پرنسپل بریگیڈئر (ر) نئیر فردوس کی بورڈ آف گورنرز کے فیصلے کے مطابق 4 سال کیلئے تقرری کی گئی تھی۔ گورنرنے کہا کہ موجودہ پرنسپل کی مدت ملازمت کے دوران ایڈورڈز کالج کاتعلیمی معیار بری طرح متاثر ہوا اور پرنسپل نے کالج کی تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کی بجائے ذاتی مفادات کے حصول کی خاطر بے ضابطگیاں کی ہے۔ موجودہ پرنسپل نے اپنی بیٹی، بیٹا اور بہو کو بھی غیرقانونی طریقے سے بھرتی کیا۔ پرنسپل کی اپنی ذاتی مفادات پر توجہ کی وجہ سے کالج کا تعلیمی معیار بھی بری طرح متاثر ہوا۔ موجودہ پرنسپل نے اپنی بیٹی اوربہو کو کالج سے چھٹی دی ہوئی ہے لیکن یہ دونوں بیرون ملک سوشل میڈیا پرایڈورڈز کالج سے متعلق گمراہ کن تحریک شروع کئے ہوئے ہیں جس سے ملکی تشخص مجروح ہورہاہے۔ ایڈورڈز کالج صوبے کا ایک تاریخی تعلیمی ادارہ ہے جس کی تعلیمی ساکھ اورتاریخی شان و شوکت کا ہم نے تحفظ کرناہے اور اس کے تعلیمی معیار کو بحال کرناہے۔