وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے قبائلی ضلع باجوڑ میںوزیراعظم کے قومی زرعی ایمرجنسی پروگرام کا باقاعدہ افتتاح کر دیا ہے۔وزیراعلیٰ نے ضلع باجوڑ میں زیتون کی کاشت اور تیل حاصل کرنے کے پلانٹ ، گھریلو مرغبانی کی تقسیم ،کسانوں میں بیج کی تقسیم اور ڈیری سے منسلک زمینداروں میں چیلرز کی تقسیم کا بھی افتتاح کر دیا ہے جبکہ لائیو سٹاک کے اہلکاروں میں موٹر سائیکل بھی تقسیم کئے ہیں ۔ وزیراعلیٰ نے جنگلی زیتون کے درختوں کی گرافٹنگ کے منصوبے کا اعلان کیا جبکہ ضلع باجوڑ کے محکمہ زراعت ولائیو سٹاک میں پراجیکٹ ملازمین کی مستقلی کا بھی اعلان کیا ۔ اُنہوںنے کہا ہے کہ تمام قبائلی اضلاع کے طلباءکیلئے میڈیکل کالجوں کی سیٹوں کے کوٹے میںاضافے پر تیز رفتاری سے کام جاری ہے ۔ وزیراعلیٰ نے ضلع باجوڑ تحصیل خار کے مسائل کے حل کیلئے ڈپٹی کمشنر باجوڑ کو پی سی ون جلد تیار کرنے کی بھی ہدایت کی ہے ۔انہوںنے کہا ہے کہ قبائلی اضلاع میں لیویز اور خاصہ دار فورس کاپولیس میں انضمام ایک بڑا چیلنج تھا جس کو صوبائی حکومت نے خوش اسلوبی سے سر کیا ہے ۔ قبائلی اضلاع کی ترقی کیلئے اگلے دس سالوں میں 1,000 ارب روپے خرچ کئے جائیں گے جبکہ موثر منصوبہ بندی کے تحت ضرورت کے مطابق قبائلی اضلاع میں ڈیمز ، کالجز ، سکولز، بنیادی صحت مراکز ، سڑکیں اور دیگرانفراسٹرکچر اور خدمات کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی ۔ پختونخوا ہائی ویز اتھارٹی بہت جلد باجوڑ مین روڈ پر کام شروع کرے گی جس کی تکمیل سے یہاں کے عوام کو بہترین سفری سہولیات میسر آئیں گی ۔ صوبے کے نوجوانوں کو ٹیکنکل تربیت کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے موجودہ ٹیکنکل کالج میں اصلاحات لائیں گے اور اگر ضرورت پڑی تو ٹیکنکل یونیورسٹی کا قیام بھی ممکن بنایا جائے گا۔ مساجد کی سولرائزیشن کی منظوری پہلے سے دی جاچکی ہے جس کے تحت قبائلی اضلاع میں مساجد کی سولرائزیشن ممکن بنائی جائے گی۔ اُنہوںنے کہاہے کہ قبائلی اضلاع میں مائنز اینڈ منرلز کی لیز نئے ایکٹ کے تحت مقامی افراد کو دی جائے گی ۔صوبائی حکومت ایک سال تک قبائلی اضلاع کیلئے جامع اور دوررس منصوبہ بندی کے عمل سے گزر رہی تھی،ہم نے قبائلی اضلاع کی دیر پا ترقی کیلئے اس منصوبہ بندی پر عمل درآمد یقینی بنانا ہے۔ ان خیالات کا اظہار وزیراعلیٰ نے ضلع باجوڑ میں اپنے ایک روزہ دورے کے دوران ایگریکلچر ایمرجنسی پروگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ دورے کے دوران صوبائی وزیر زراعت محب اﷲ خان،رکن صوبائی اسمبلی وڈیڈک چیئرمین سوات فضل حکیم خان، ایم پی ایز انور زیب، اجمل خان ایم این اےز گل داد خان اور گل ظفر خان و دیگر بھی وزیراعلیٰ کے ہمراہ تھے ۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان ملک کی ترقی کیلئے دن رات اقدامات اُٹھار ہے ہیں ۔ عمران خان کبھی بھی قوم کو مایوس نہیں کریں گے ۔ اُنہوںنے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے وژن کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے خصوصی طور پر کہا ہے کہ قبائلی اضلاع کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے ہیںتاکہ ترقی سے محروم اضلاع کو دیر پا ترقی جلدممکن ہو سکے ۔ اسی تناظر میں اب تک سب سے زیادہ دورے قبائلی اضلاع کے کئے ہیںتاکہ یہاں پر عوام کی مشکلات کو بخوبی حل کیا جا سکے ۔دورے کے دوران وزیراعلیٰ کونیشنل ایگر کلچر ایمرجنسی پروگرام پر تفصیلی بریفینگ دی گئی ۔نیشنل ایگر کلچر ایمرجنسی پروگرام کے تحت صوبے بھر میں آئندہ چار سالوں میں تقریباً44 ارب 50 کروڑ روپے خرچ کئے جائیں گے جس سے صوبے میں معاشی اور زرعی انقلاب ممکن ہو سکے گا۔زراعت، لائیوسٹاک، ماہی پروری سے متعلقہ شعبوں میں 11 اہم اور جامع منصوبوں کو متعارف کروا کر ان پر عمل درآمد یقینی بنایا جا رہا ہے۔4500 ایکڑ زمین پر کاشت کے لئے 2195 ملین روپے کی لاگت سے گندم کی ترقی وادہ تخم تقسیم ہوگی۔ مزید بتایا گیا کہ 165000 خاندانوں میں 10 لاکھ اچھی نسل کی مرغیاں تقسیم کر رہے ہیںجس سے ضلع باجوڑ کے عوام بھی مستفید ہو رہے ہیں ۔وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ ضلع باجوڑ میں اب تک ایک کروڑ جنگلی زیتونوں میں سے 2 لاکھ پودوں پر پیوندکاری کی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ کو تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ قبائلی اضلاع میں زراعت کی ترقی کے لیے 25 ارب 21 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں جبکہ تیز تر ترقی کے حامل منصوبوں پر مزید 10 ارب 46 کروڑ خرچ کئے جائیں گے۔مزید بتایا گیا کہ ان منصوبوں سے صوبے بھر میں ایک معاشی انقلاب آئے گا۔ منصوبوں کے تحت قبائلی اضلاع میں 8 ہزار ایکڑ زمین پر باغات لگائے جائیں گے جبکہ 28 ہزار بنجر زمین بھی زیر کاشت لائی جائے گی جس سے زرعی پیداوار کے شعبے میں مزید بہتری آئے گی۔اسی طرح قبائلی اضلاع میں25 ہزار ایکڑ زمین پر مکئی اور گندم کے تصدیق شدہ بیج پیدا کئے جائیں گے جبکہ 16ہزار ایکڑ پر سبزیوں کی کاشت کے لئے مفت بیج بھی فراہم کئے جائیں گے۔وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ منصوبہ بندی کے تحت قبائلی اضلاع کی زیر کاشت زمین کو آبپاشی کیلئے بلا تعطل پانی کی فراہمی ممکن بنانے کیلئے 327 ٹیوب ویلوں پر شمسی آلات نصب کئے جائیں گے جبکہ پانی ذخیرہ کرنے کےلئے1 ہزارتالاب اور اس ضمن میں پروٹیکشن بندوغیرہ کی تعمیر بھی زیر غور ہے۔اسی طرح زمین کی ہمواری کے لئے 20نئے بلڈوزخریدنے جبکہ جانوروں کی علاج معالجے اور پیداوار بڑھانے کیلئے ایک خطیر رقم کی فراہمی بھی منصوبہ بندی کا حصہ ہے ۔ وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ اس جامع منصوبہ بندی کے تحت قبائلی اضلاع میں تقریباً 10 لاکھ جانوروں کی ویکسنیشن کی جائے گی اور 30 ڈیری فارم بھی لگائے جائیں گے۔وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ قبائلی اضلاع کی دیر پا ترقی کیلئے عملی اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں جبکہ ان منصوبوں کی بدولت قبائلی اضلاع میں معاشی استحکام کی راہ ہموار ہو گی اور غربت میں خاطر خواہ کمی لائی جا سکے گی ۔