پشاور(صوبائی اسمبلی ) سپیکر خیبرپختونخوااسمبلی مشتا ق احمد غنی کی زیر صدارت محکمہ پبلک ہیلتھ انجیئنر نگ کے آڈٹ پیروں کے حوالے سے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں ہوا ۔اجلاس میں ممبران صوبائی اسمبلی عنایت اللہ خان ،خوشدل خان ،ارباب وسیم حیات ،فخرجہاں اور ڈاکٹر سمیرہ شمس کے علاوہ محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، آڈٹ ،خزانہ اور محکمہ قانون کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی ۔آج کے اجلاس میں محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی 2014.15کی سالانہ آڈٹ رپورٹ پیش کی گئی ۔اجلاس میں محکمہ آڈٹ کے حکام کو ہدایات جاری کی گئی کہ وہ آئندہ احتیاط اور مکمل ذمہ داری کے ساتھ آڈٹ رپورٹس جاری کریں اور پی اے سی میں وہ پیرے نہ لے کر آئیں جن سے پی اے سی کا وقت اور حکومت کا پیسہ ضائع ہو ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں کمزور پیروں کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیئے ۔تمام محکمہ جات کو ایک بار پھر سختی کے ساتھ ہدایات جاری کی گئی کہ وہ ہر صورت میں ایک مہینے کے اندر ڈیپارٹمنٹل اکاؤنٹس کمیٹی DACکریں ایک مہینہ گزرنے کے باوجود بھی اگر DACنہ کی گئی تو محکمہ آڈٹ اس کو اپنی آڈٹ رپورٹس میں واضح کریں۔
ضلع بٹگرام میں پینے کے پانی کی پائپوں کے ٹھیکے میں بے قاعدگیوں کے حوالے سے ایک انکوائری کمیٹی کاقیام عمل میں لایا گیا جو نہ صرف عملی طور پر سائٹ کا معائنہ کریگی بلکہ متعلقہ ٹھیکہ داروں کو زائد رقم کی ادائیگی کا معاملہ بھی زیر غور لائے گی ۔اس کے علاوہ ضلع مانسہرہ میں پانی کے پائپوں کے ٹھیکے میں زائد رقم کی ادائیگی کا معاملہ بھی زیر غور آیا اور معاملے کو ذیلی کمیٹی کے حوالے کیا گیا ۔جو اپنی تجاویز وحقائق پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سامنے رکھے گی ۔سپیکر نے محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کو پانی کی مدمیں جمع ہونے والی بقایاجات کی ریکوری کیلئے ایک جامع پالیسی وضع کرنے کی ہدایات جاری کی ۔اس موقع پر سپیکر مشتاق غنی نے کہا کہ آڈٹ کے عمل کو مزید بہتر اور موثر بنانے کی ضرورت ہے ہم عوام کے ٹیکس کے پیسوں کا احتساب کررہے ہیں،اور اس احتسابی عمل میں کسی بھی قسم کی کوتاہی اور سستی برداشت نہیں کی جائے گی۔