مشیر تعلیم خیبرپختونخوا ضیاء اللہ خان بنگش نے کہاہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بارقبائلی اضلاع کی تعلیم کی بہتری کیلئے 22 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جن میں سہولیات مکمل کرنے کیلئے ابتدائی طور پر 4 ارب روپے ریلیز کردیے گئے ہیں جوکہ پیرنٹس ٹیچرز کونسل کے ذریعے خرچ کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ ان ریلیز کردہ پیسوں سے سرکاری سکولوں میں بنیادی سہولیات جیسے کہ باونڈری وال، واٹرسپلائی منصوبے، بہت الخلاء کی تعمیر، فرنیچر کی فراہمی، پینے کاصاف پانی، اضافی کمروں کی تعمیر ومرمت جیسی اہم سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ جبکہ یہ تمام پیسے پی ٹی سی کے ذریعے خرچ ہوں گے۔ جس کیلئے پی ٹی سی کی ٹریننگ اورمزید فعالیت یقینی بنائی جاچکی ہے جبکہ والدین ، ٹیچرز، علاقہ مشران اور مذہبی سکالرز کو بھی پی ٹی سی میں شامل کیا گیاہے۔ تاکہ اعلیٰ معیار کا کام ہو اور شفاف مانیٹرنگ کا عمل بھی ممکن ہوسکے۔ وہ صوبائی حکومت کے ترجمان ومشیر برائے ضم شدہ اضلاع اجمل وزیرکے ہمراہ قبائلی اضلاع کے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز کے اجلاس کی صدارت کے بعد میڈیاسیل محکمہ اطلاعات وتعلقات عامہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ ضیاء اللہ خان بنگش نے قبائلی اضلاع کے جاری منصوبوں کے حوالے سے کہاکہ قبائلی اضلاع کے طلباء اورطالبات کیلئے سکول بیگز و سٹیشنری کی فراہمی کی مد میں بھی چالیس کروڑ روپے ریلیز کردیے گئے ہیں جبکہ 23 کروڑ روپے قبائلی اضلاع کے سرکاری سکولوں میں کھیلوں کے میدان تیارکرنے کیلئے جاری کردیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم عمران کے وژن اور وزیراعلیٰ محمودخان کی ہدایت پر قبائلی اضلاع کے تمام طلباء اورطالبات کو ماہانہ وظیفہ کی فراہمی کی مد میں بھی ڈھائی ارب روپے منظورکئے جاچکے ہیں جس سے ڈراپ آؤٹ شرح پرقابو پانے کیساتھ انرولمنٹ شرح بھی بڑھ جائیگی۔ مشیرتعلیم نے قبائلی اضلاع میں سکولوں کے حوالے سے کہاکہ قبائلی اضلاع میں تقریباّ 854 سکول تیار ہیں جوکہ بہت جلد حکومت کے حوالے کئے جائیں گے اور ان سکولوں کیلئے تدریسی اور غیرتدریسی عملے کی 4 ہزار سات سو 33 آسامیاں منظوری کیلئے محکمہ خزانہ بھیج دی گئی ہیں ان سکولوں کی بدولت طلباء کو اپنے علاقوں کے قریب اعلیٰ تعلیم کی سہولیات میسرہو سکیں گی۔ ایک سوال کے جواب میں مشیرتعلیم ضیاء اللہ خان بنگش نے کہاکہ قبائلی اضلاع میں ایجوکیشن مانیٹرنگ اتھارٹی کی توسیع اور قبائلی اضلاع کیلئے 140 مانیٹرنگ سٹاف کے بھرتی ہونے کے بعد وہاں پرتمام سکولوں کو مانیٹر کیاجارہاہے اور ان کی رپورٹ کے مطابق سکولوں میں سہولیات کی فراہمی کیلئے بجٹ مختص کیاجارہاہے جبکہ عوامی شکایات اورمانیٹرنگ اتھارٹی کی رپورٹس کے مطابق قبائلی اضلاع کے 128 گھوسٹ اساتذہ کو نوکریوں سے فارغ کیاجاچکاہے جبکہ 228 اساتذہ کے کوائف چیک کئے جارہے ہیں تاکہ ان کی کارکردگی، دستاویزات، حاضریوں وغیرہ کو چیک کرنے کے بعد ان کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائی جائے۔