خیبر پختون خوا کے وزیر صحت ڈاکٹر ہشام انعام اللہ خان نے کہا ہے کہ عوام کی تکالیف کے ازالے کی خاطر اگر آخری احتجاجی ڈاکٹر کو بھی نکالنا پڑا تو پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ انہوں نے کہاکہ ڈاکٹروں کا ایک مخصوص ٹولہ اپنے ناجائز مفادات کیلئے احتجاج کر رہا ہے جس کا نقصان اور تکلیف سب سے زیادہ غریب عوام کو پہنچ رہی ہے ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر ہشام انعام اللہ نے وزیراعظم  کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کے ہمراہ پشاور میں جمعہ کے روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ احتجاجی ڈاکٹروں سے بات چیت اور مذاکرات کیلئے ہمارے دروازے کھلے ہیں اور ڈاکٹروں سے درخواست ہے کہ وہ غریب عوام کے مفاد میں اپنے احتجاج کو ختم کر دیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں کا ایک مخصوص گروپ افوائیں پھیلا رہا ہے کہ صحت کے شعبے کو پرائیویٹائز اور ڈاکٹروں کی سول سرونٹ کی حیثیت ختم کی جارہی ہے جبکہ حقیقت  اس کے بالکل برعکس ہے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ صوبے اور پورے ملک میں عوام اور مریضوں کے وسیع تر مفاد میں صحت کے شعبے میں اصلاحات کی ضرورت طویل عرصے سے محسوس کی جارہی تھی۔تحریک انصاف کی طرف سے متعارف کی گئی اصلاحات  خالصتاً عوام کے مفاد کیلئے کی گئی ہیں اور اس سلسلے میں وفاقی اور صوبائی حکومت ایک پیج پر ہیں۔ ڈاکٹر ہشام انعام اللہ خان نے کہا کہ کہ پچھلے ایک ماہ سے احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں کے خلاف تادیبی کاروائی جاری رہے گی احتجاج کے دوران عوام کو ملنے والی تکلیف کا کفارہ ڈاکٹرز کو ادا کرنا پڑے گا تاہم حکومت کی طرف سے احتجاجی ڈاکٹروں ساتھ مذاکرات کے لیے  دروازے کھلے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ڈاکٹروں کے احتجاج کی وجہ سے بیشتر ہسپتالوں میں میں او پی ڈیز بند نہیں ہیں مگر یہ ضرور ہے کہ مخصوص گروپ کی وجہ سے عوام کو صحت کی سہولیات فراہم کرنے میں رکاوٹیں آ رہی ہیں۔ ڈاکٹر ہشام انعام اللہ خان نے کہا کہ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے محکمہ صحت نے 400 نئے ڈاکٹرز کو کنٹریکٹ پر بھرتی کرنے کے لئے  اخبارات میں اشتہار شائع کرائے  ہیں اور پبلک سروس کمیشن کے تحت 750 ڈاکٹرز کی  بھرتی کا عمل مکمل ہو گیا ہے  جنکی تعیناتیاں اورتقرریاں بہت جلد کی جائیں گی۔ صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ اس کے علاوہ اگر ضرورت پڑی تو مزید ڈاکٹرز کو بھی بھرتی کیا جائے گا۔ قبل از ایں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا اور صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر ہشام انعام اللہ خان کی زیر صدارت پولیو کے حوالے سے ایک اہم اجلاس ہوا۔اجلاس میں صوبائی ڈی جی ہیلتھ، ای او سی کوآرڈینیٹر، عالمی ادارہ صحت اور یونیسف کے نمائندوں نے بھی شرکتِ کی۔اجلاس کو پولیو کی موجودہ صورت حال اور  درپیش چیلنجز کے بارے میں آگاہ کیاگیا۔ ڈاکٹر ہشام انعام اللہ خان نے کہا کہ پولیو کو ختم کرنے کے لیے وفاقی اورصوبائی حکومتیں پر عزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر کوئی اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے سرانجام دے اس دوران اگر مسائل درپیش ہوں تو ان سے ہمیں آگاہ کریں تاکہ متعلقہ مسائل کا ادراک اور ازالہ کیا جا سکے۔ وزیر صحت نے مزید کہا کہ پولیو کا خاتمہ نہ صرف اس لئے ضروری ہے کہ پاکستان کی ساتھ بین الا قوامی سطح پر اچھی ہوبلکہ اپنے بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے بھی بچایا جاسکے۔