سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات کی روشنی میں قائم ہونے والے”ون مین کمیشن” نے اقلیتی برادری کے حوالے سے خیبرپختونخوا حکومت کے اقدامات کا جائزہ لینے کیلئے پشاور کا دورہ کیا۔ جہاں انہیں خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے اقلیتی برادری کے لئے کئے گئے اقدامات کے حوالے سے آگاہ کیا گیا۔جائزہ اجلاس میں چیئر مین ون مین کمیشن ڈاکٹر محمد شعیب سڈل، ممبر قومی اسمبلی رمیش کمار اور ایڈوکیٹ سپریم کورٹ ثاقب جیلانی نے شرکت کی۔کمیشن کو بریفنگ دیتے ہوئے سیکرٹری اوقاف فرخ سیر کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں سرکاری ملازمتوں میں اقلیتوں کا کوٹہ تین فیصد سے بڑھا کر پانچ فیصد کردیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں اقلیتی برادری کی عبادت گاہوں کی سیکورٹی کے حوالے سے بھرپور اقدامات اٹھائے کئے گئے ہیں۔ سیکرٹری اوقاف کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے احکامات کے تناظر میں اسکول اور کالجز کے نصاب میں بھی مناسب تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سال 19-2018 میں اقلیتی برادری کے قبرستانوں کے لئے 10 کروڑ روپے منظور کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ 3 کروڑ روپے قبرستانوں کی چاردیواریوں کے لئے مختص کئے گئے ہیں۔سپریم کورٹ کا “ون مین کمیشن” جنوری 2019 میں تشکیل دیا گیا تھا۔ جس کا کام سپریم کورٹ کے احکامات کے تناظر میں ہونے والے کاموں کی عملدرامد یقینی بنانا ہے۔ ڈاکٹر محمد شعیب کمیشن کے چیرمین کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔کمیشن نے پشاور میں اقلیتی برادری کی عبادت گاہوں کا بھی دورہ کیا اور وہاں پر سیکیورٹی اور دیگر انتظامات کا جائزہ لیا۔ کمیشن نے اقلیتی برادری کے نمائندوں سے بھی ملاقات کی اور ان کے مسائل سے اگاہی حاصل کی۔ چیرمین محمد شعیب سڈل نے محکمہ اوقاف کو اقلیتی برادری کے قبرستانوں پر کام تیز کرنے کی ہدایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اقلیتی برادی کسی بھی مسئلہ کی صورت میں کمیشن سے رابطہ کرسکتے ہیں۔ انہوں نے محکمہ اوقاف کو ہدایت کی کہ وہ اقلیتی برادری کے مسائل جاننے کے لئے باقاعدہ ایک فوکل برسن کا تقرر کریں۔ جس کے حوالے سے سیکرٹری اوقاف نے یقین دہانی کرادی۔”ون مین کمیشن” اقلیتی برادری کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر خیبر پختونخوا میں عمل در آمد کے حوالے سے ایک رپورٹ مرتب کریگی، جو سپریم کورٹ آف پاکستان میں پیش کی جائیگی۔