بچوں کیلئے محفوظ معاشرے کی تشکیل کا خواب ایک ذمہ دار حکومت اور اس کے اداروں کا فرض ہے۔انور زیب خان

ذہنی، جسمانی، معاشی اور معاشرتی طور پر خوشحال بچے، ہمارے ملک پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہیں،صوبائی وزیر زکواۃو سماجی بہبود

خیبر پختونخوا کے وزیر زکواۃوعشر، سماجی بہبود، خصوصی تعلیم وترقی خواتین اورچئیرمین چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفئیر کمیشن انورزیب خان نے کہا ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت بچوں کے حقوق کے تخفظ کیلیے عملی اقدامات اٹھارہی ہے بچوں کی فلاح وبہبود اور انکے حقوق کی حفاظت کرنا حکومت کے ساتھ ساتھ معاشرے کے ہر فرد کی بھی ذمہ داری بنتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور میں چائلڈ پروٹیکشن یونٹ کے افتتاح اور عالمی یوم اطفال کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر سیکرٹری سماجی بہبود خصوصی تعلیم اور ترقی خواتین محمد ضیا ء الحق، اے ڈی سی پشاورعمران خان، ڈپٹی چیف خیبر پختونخوا چائلڈ ویلفئیر کمیشن محمد اعجاز خان، یونیسف کے انڈریو ایسٹانو ودیگر نے بھی خطاب کیا، اس موقع پر صوبائی وزیر نے فیتہ کاٹ کر چائلڈ پروٹیکشن یونٹ کا باقاعدہ افتتاح کیا اور یونٹ کے مختلف سیکشنز کے معائنے کئے، صوبائی وزیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہر سال 20 نومبر کو بچوں کا عالمی دن پوری دنیا میں اس عزم اور امید کے ساتھ منایا جا تا ہے کہ ہم بچوں کی فلاح و بہبود اور تحفظ کو یقینی بنائیں گے، بچوں کے حقوق کے عالمی معاہدے اور خیبر پختونخوا کے بچوں کے تحفظ اور بہبود کے قانون مجریہ 2010 کوملحوظ خاطر رکھتے ہوئے، اپنے محدود وسائل کو بروئے کارلاتے ہوئے چائلڈ پروٹیکشن یونٹ پشاور کا قیام عمل میں لایا گیا جس کا افتتاح عالمی دن کے موقع پر ایک پر وقار اور پر مسرت تقریب میں کیا گیاہے۔ اوراور اس میں سب کی شرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ بچوں کا تحفظ اور فلاح و بہبود ہماری اولین ترجیح ہے انہوں نے کہا کہ بچوں کیلئے محفوظ معاشرے کی تشکیل کا خواب ایک ذمہ دار حکومت اور اس کے اداروں کا فرض ہے۔ ذہنی، جسمانی، معاشی اور معاشرتی طور پر خوشحال بچے، ہمارے ملک پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہیں صوبائی وزیر انورزیب خان نے کہا کہ یہ ہمارے لئے فخر کی بات ہے کہ پاکستان ان چند اولین ممالک میں شامل ہے جنہوں نے بچوں کے حقوق کے عالمی معاہدے کی توثیق اس کے وجود میں آنے کے فورا بعد کی۔ ہم آج کے دن یہ عہد کرتے ہیں کہ بچوں کے ساتھ ہر قسم کی جنسی یا جسمانی بدسلوکی اور تشدد کی روک تھام اور ان کے تحفظ اور معاشرتی، جسمانی اور ذہنی فلاح کیلئے ہر وہ کوشش کریں گے جن سے بچوں کے حقوق پامال نہ ہوں انہوں نے کہا کہ ہمیں اس بات پر بھی خوشی ہے کہ ہمارا صوبہ خیبر پختو نخواہ باقی صوبوں کی نسبت بچوں کے حقوق اور تحفظ میں سب سے آگے رہا ہے ہمارے صوبے کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہاں بچوں کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کیلئے ایک جامع قانون سازی کی گئی ہے 12 اضلاع میں چائلڈ پروٹیکشن یونٹس کا قیام، 8 اضلاع میں چائلڈ پروٹیکشن کورٹس کا قیام، چائلڈ پروٹیکشن منیجمنٹ انفارمیشن سسٹم اور پورے صوبے میں ہیلپ لائن 1121 کی پورے صوبے میں فعالی اس بات کی دلیل ہے کہ ہم اپنے بچوں کے تحفظ میں سنجیدہ ہیں انہوں نے کہا کہ آج کے دن میں ہم اس بات کا عہد کرتے ہیں کہ بچوں کے تحفظ کی خاطر اس کے نگران ادارے چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفئر کمیشن کو مزید مستحکم کریں گے چائلڈ پروٹیکشن یونٹس اور چائلڈ پروٹیکشن کورٹس کو صوبے کے دوسرے اضلاع تک پھیلایا جائے گا اور اس طرح چائلڈپروٹیکشن سسٹم کوترقی یافتہ ممالک کی سطح پر لایا جائے گا اور بچوں کو وہ سہولیات اور خدمات فراہم کریں گے جو ان کا حق اور ہمارا فرض ہے۔بچوں کے عالمی دن اور چائلڈ پروٹیکشن یونٹ کے افتتاح کے موقع پر میں موجودہ حکومت، تمام مکاتب فکر، والدین، اساتذہ اور میڈیا کے نمائندوں سے گزارش کرتا ہوں کی بچوں کے تحفظ اور فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کیلئے ہمارا ساتھ دیں چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفر کمیشن، یونیسیف کے تعاون سے چائلڈ پروٹیکشن سسٹم کومربوط اور مستحکم بنانے کیلئے اقدامات کر رہا ہے، انہوں نے یونیسیف کے ذمہ داران کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ یہ تعاون بچوں کے تحفظ کیلئے جاری رہے گا سیکرٹری ضیاء الحق نے کہا کہ قدرتی اور د یگر آفات سے معاشرے کاکمزور طبقہ زیادہ متاثر ہوتا ہے انہوں نے بچوں کے حقوق پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں چائلڈ پروٹیکشن یونٹ کے قیام سے بچوں کے حقوق محفوظ ہوجائینگے جبکہ صوبے کے ان اضلاع میں بھی یونٹ کا قیام ضروری ہے جہاں پر یہ یونٹ نہیں ہیں۔اس موقع پرمحمد اعجاز خان نے چائلڈ پروٹیکشن یونٹ کے بارے میں تقریب کے شرکاء کو تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ یونٹس کے قیام سے صوبے میں سٹریٹ چلڈرن، بچوں پر تشدد میں خاطر خواہ کمی آئیگی جبکہ بچوں کے حقوق بھی مزید محفوظ ہوجائینگے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔