وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت نے گزشتہ چار برسوں میں صوبے کی مستقل اور پائیدار ترقی کے لیے ایک جامع منصوبہ بندی کے تحت اقدامات اٹھائے ہیں جن کا مقصد صوبے کو ترقی کی راہ پر گامزن کر کے اسے مالی طور پر خودمختار بنانا ہے، حکومت کے ان اقدامات سے نہ صرف صوبے کے عوام مستفید ہونگے بلکہ ملکی معیشت کی ترقی میں بھی صوبہ خیبر پختونخوا ایک کلیدی کردار ادا کرے گا۔انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان تحریک انصاف شخصیات سے ہٹ کر اداروں کی مکمل فعالیت اور ان کی تقویت پر یقین رکھتی ہے جس کے بغیر دیرپا ترقی ممکن نہیں۔ وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ طویل المدتی منصوبہ بندی کے باعث صوبہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو چکا ہے اور آنے والے وقت میں خیبر پختونخوا ایک فلاحی ریاست کے قیام کے لیے رول ماڈل کے طور پر سامنے آئے گا۔وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ سے جاری کردہ ایک بیان میں انہوں نے واضح کیا کہ موجود حکومت نے سیاحت کو بطور صنعت متعارف کرایا جس کی وجہ سے خیبر پختونخوا نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سیاحوںکیلئے بھی ایک ٹوریسٹ ڈیسٹینیشن بن چکا ہے جو کہ آنے والے وقت میں ملکی معیشت کو تقویت دینے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔اسی طرح صوبے میں موجود قدرتی وسائل سے استفادہ کرنے کے لیے بھی متعدد اقدامات اٹھائے گئے ہیں جن میں ویلنگ ماڈل نہایت اہمیت کا حامل ہے جس کے ذریعے سستی بجلی کی فراہمی سے صنعتکاروں کو سرمایہ کاری کے لیے ایک پر کشش ماحول فراہم کیا گیا ہے۔محمود خان نے کہا کہ صوبے میں چھوٹی اور بڑی صنعتوں کے قیام سے نہ صرف روزگار کے مواقع میسر ہوئے ہیں بلکہ خیبر پختونخوا شعبہ صنعت میں بھی نجی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ متعدد چیلنجر کے باوجود ان کی حکومت نے سابقہ فاٹا کے انضمام کو نہ صرف کامیاب بنایا ہے بلکہ ان علاقوں کی ترقی کے لیے بھی ایک جامع منصوبہ بندی کے تحت کام جاری ہے۔ تاہم اس معاملے میں موجودہ وفاقی حکومت کا کردار انتہائی مایوس کن ہے۔ وفاق کی جانب سے ضم اضلاع کے لیے ترقیاتی فنڈز کی عدم فراہمی تشویشناک ہے جو کہ دہائیوں سے جاری استحصال کی روایت کو برقرار رکھنے کے مترادف ہے۔ وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ عصری چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے اسلامی تعلیمات، اخلاقی اقدار ارو روایات کو برقرار رکھنے کے لیے بھی منصوبہ بندی اور سرمایہ کاری کی ہے جس کے ذریعے قومی شناخت کو عزت اور تقویت ملے گی۔ صوبے کے سکولوں میں قرآن مجید کا ترجمہ متعارف کرانا انتہائی اہمیت کا حامل ہے جبکہ آئمہ مساجد اور دیگر مذاہب کے پیشواو¿ں کو ماہانہ وظائف کی فراہمی کا سلسلہ بھی شروع کیا گیا ہے جو ان طبقات کی مالی معاونت کے کے سلسلے میں صوبائی حکومت کا منفرد اقدام ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ یکساں ترقی کے بغیر ہم کبھی بھی کامیاب نہیں ہو سکتے جس کے لیے ہر طبقے پر سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ تعلیم اور صحت کے شعبوں کے بارے ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سکولز، کالجز اور ہسپتالوں میں اساتذہ، ڈاکٹروں اور دیگر وسائل کی کمی کو تقریباً ختم کیا جا چکا ہے جس کے باعث ان اداروں پر عوامی اعتماد بحال ہوا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کا دوبارہ انتخاب عوامی اطمینان کا ثبوت ہے اور ہم عوامی توقعات کے مطابق دن رات محنت کر کے فلاحی ریاست کے قیام کی طرف گامزن ہیں۔