وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے پشاور اپ لفٹ پروگرام کے دوسرے مرحلے کے تحت مجوزہ نئی اسکیموں پر عمل درآمد کی باضابطہ منظوری دی ہے جبکہ حیات آباد ٹریل سمیت پہلے سے جاری سکیموں کی بروقت اور معیار ی تکمیل یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ اُنہوںنے پشاور کی خوبصورتی کیلئے اُٹھائے گئے اقدامات کو دیر پا اور مو¿ثر بنانے کیلئے باضابطہ مینٹنس اینڈ مینجمنٹ پلان کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہاکہ صوبائی دارلحکومت پشاور کی اپ لفٹنگ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے ۔ وزیراعلیٰ نے پشاور میں پیشہ وارانہ بھکاریوں کے خلاف بھی کاروائی کرنے کی ہدایت کی اور واضح کیاکہ اس مسئلے کو مستقل طور پر حل کرنے کیلئے پیشہ وارانہ بھکاریوں کے سرغنہ عناصر اور گروپس کو لگام ڈالنے کی ضرورت ہے ۔گزشتہ روز پشاور اپ لفٹ پروگرام کے حوالے سے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ پیشہ وارانہ بھکاریوں کیصرف پکڑ دھکڑکافی نہیں بلکہ اس مسئلے کے کلی طور پر تدارک کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ پشاور میں کاروائی کی وجہ سے پیشہ ور بھکاری دیگر اضلاع کی طرف رُخ کریں گے جن پر وہاں بھی کڑی نظر رکھنے اور اُن کے خلاف کاروائی کرنے کی ضرورت ہے ۔ قبل ازیں اجلاس کو پشاور اپ لفٹ پروگرام کے تحت مختلف منصوبوں پر پیشرفت کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ پروگرام کے تحت 20 کے قریب مختلف اسکیموںپر پیشرفت جاری ہے جن کا تفصیلی ڈیزائن متعلقہ فورم سے منظور کیا جا چکا ہے اور اگلے ایک ہفتہ کے اندر ان اسکیموں کا ٹینڈر بھی جاری کردیا جائے گا۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ چھ کلومیٹر طویل حیات آباد ٹریل کے قیام کا منصوبہ بڑی اہمیت کا حامل ہے جو 80 کروڑ روپے کے تخمینہ لاگت سے مکمل کیا جائے گا ۔ حیات آباد ٹریل میں جاگنگ اینڈ سائیکل ٹریکس کے علاوہ پبلک ٹائلٹ ، ٹک شاپ ، کڈ زون ، اوپن جیم ، بیڈمنٹن اینڈ باسکٹ بال کورٹس، لائبریری ، لیڈیز جیم اور سکیٹنگ ایریا سمیت دیگر سہولیات فراہم کی جائیں گی ۔ یہ اپنی نوعیت کا ایک منفرد اور اسٹیٹ آف دی آرٹ منصوبہ ہو گاجو 18 فٹ چوڑے ٹریکس ، دونوں اطراف میں گرین بیلٹس پر مشتمل ہو گا۔