وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر محمد علی سیف نے وزیراعلیٰ محمود خان کے بھائی کے اغواء کی خبروں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ خبر ایک جماعت کے صوبائی رہنما کی طرف سے چھوڑا گیا ایک شوشہ ہے۔ وزیراعلیٰ محمود خان ایک بہادر لیڈر ہیں اور ان کا خاندان اپنے علاقے میں موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے این پی کے رہنما جو پٹاخے کی آواز سن کر عوام کو چھوڑ کر اپنے خاندان سمیت یہاں سے بھاگ گیا تھا اور اب علاقے میں امن ہے تو یہ پختونوں کے لیڈر بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اپنے دفتر سے جاری ایک وڈیو بیان میں معاون خصوصی بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ ایمل ولی ایک سیاسی نابالغ ہے اور لغویات کا سہارا لے کر سستی شہرت حاصل کرنا چاہتا ہے۔ وزیراعلیٰ کے بھائی کے اغواء کی خبر اسی کا پھیلایا گیا شوشہ ہے جس کا حقیقت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔ ایمل ولی خود پختونوں کے نام پر ایک سیاہ دھبہ ہے۔ جب اسفند یار ولی خاندان سمیت ایک پٹاخے کے ڈر سے عوام کو چھوڑ کر ہیلی کاپٹر میں بھاگ گیا تھا تب ایمل ولی دبئی میں شاہ خرچیوں میں مگن تھا۔ اب جب علاقے میں امن آیا ہے تو یہ پختونوں کے لیڈر بننے کی ایکٹنگ کررہا ہے۔ بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ وزیراعلیٰ محمود خان کا خاندان اسفندیار ولی خاندان کی طرح بھاگنے والا نہیں۔ محمود خان ایک بہادر، نڈر اور دلیر خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے بھائی اپنے خاندان سمیت اپنے علاقے میں موجود ہیں۔ اسفندیار ولی کی طرح اپنے عوام کو چھوڑ کر بھاگے نہیں ہیں۔ معاون خصوصی نے کہا کہ ایمل ولی سستی شہرت کے لیے لغویات کا سہارا لے کر سیاست کر رہا ہے جبکہ اس سیاسی نابالغ کو سیاست کی الف ب تک کا پتہ نہیں۔ ایمل ولی کے دائیں بائیں خیبر پختونخوا پولیس سیکورٹی پر مامور ہے تو وہ کس منہ سے سیکورٹی کی بات کررہا ہے۔ اس سیاسی نابالغ کو چاہیے کہ پہلے تمیز سیکھے پھر سیاست کرے۔